لکھنو کوچنگ آتشزدگی حادثے میں پولیس نے چار افراد کو گرفتار کیا، چار افسران معطل
لکھنو، 23 جون (ہ س)۔ اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنو کے علی گنج علاقے کی ایک عمارت میں لگی آگ سے ہوئے جانی نقصان کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت تیز اور فوری ایکشن کے موڈ میں نظر آ رہی ہے۔ اس معاملے میں تجارتی عمارت کے مالک سمیت چار لوگ
امدادی اور بچاو کام کرتے اہلکار


لکھنو، 23 جون (ہ س)۔ اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنو کے علی گنج علاقے کی ایک عمارت میں لگی آگ سے ہوئے جانی نقصان کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت تیز اور فوری ایکشن کے موڈ میں نظر آ رہی ہے۔ اس معاملے میں تجارتی عمارت کے مالک سمیت چار لوگوں کے خلاف کیس درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میونسپل کارپوریشن کے دو اور محکمۂ توانائی و فائر کے ایک ایک افسر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

علی گنج پولیس کی جانب سے دیر رات اس معاملے میں مقدمہ درج کیا گیا۔ اس کے بعد علی گنج سیکٹر ڈی کے رہائشی رام کرشن اپادھیائے، سیتا پور روڈ کے رہائشی ویریندر پرساد شُکل، ٹھاکر گنج کے رہنے والے توشاک کرشنا جیسوال اور مڑیاوں کے کیشو نگر کے رہائشی سریش کمار ساہو کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھر، وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر محکمۂ بجلی کے جانکی پورم ایکسین کلیکشن گورو کمار، ایف ایس ایس او فائر ڈپارٹمنٹ اندرا نگر کے انچارج کملیندر کمار سنگھ، لکھنو ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے اے ای انیل کمار اور جے ای پرمود پانڈے کو معطل کر دیا گیا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ نے 5 کالیداس مارگ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر ہائی لیول میٹنگ منعقد کی جس میں تمام بڑے اور اہم افسران شامل ہوئے۔ میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ نے امرت ابھیجات، ایڈیشنل چیف سکریٹری (محکمۂ سیاحت، مذہبی امور اور ثقافت) اور پروین کمار، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی) لکھنو زون کی قیادت میں دو رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کی ہدایت دی۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو 7 دنوں کے اندر اپنی جانچ مکمل کر کے وزیر اعلیٰ کو سونپنی ہے۔ جانچ کے دائرے میں کئی بڑے افسران کے آنے کا امکان ہے۔ وہیں، ایل ڈی اے کے وی سی نے جانچ کے لیے ٹیم تشکیل دی ہے۔

علی گنج میں ہوئے خوفناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد اب عمارت سے منسلک پرانے دستاویزات اور اتھارٹی کی کارروائی سنگین سوالات کے گھیرے میں ہے۔ پیر کے روز جس عمارت میں آگ لگنے کا یہ دردناک واقعہ پیش آیا، اس کے خلاف سال 2016 میں غیر قانونی تعمیرات کو لے کر مسماری کا حکم جاری کیا گیا تھا، لیکن دو ماہ سے بھی کم وقت میں اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا۔

علی گنج اسکیم کے سیکٹر-ڈی میں واقع عمارت نمبرایم ایس/ 102 ڈی بنیادی طور پر 11 جولائی 1980 کو لاٹری سسٹم کے تحت وجئے کمار کو کرایہ-خریداری کے طریقہ کار پر الاٹ کی گئی تھی۔ 4 نومبر 1980 کو معاہدہ طے پانے کے بعد عمارت کا قبضہ الاٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ 2005 میں یہ عمارت سیل ڈیڈ کے ذریعے وجئے کمار اور ان کی اہلیہ اوشا کے نام درج ہوئی۔ وہیں 19 جنوری 2013 کو ان لوگوں نے یہ عمارت ویریندر پرتاپ شُکل اور سریندر پرتاپ شُکل کے نام فروخت کر دی۔ 7 اگست 2014 کو لکھنو ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ویریندر اور سریندر کے حق میں نام کی تبدیلی (داخل خارج) کا عمل مکمل کیا۔ تقریباً 1992 مربع فٹ رقبے والی اس عمارت کا نقشہ 20 اگست 2014 کو خود کار نقشہ اسکیم کے تحت رہائشی استعمال کے لیے منظور کیا گیا تھا۔

تاہم، بعد میں عمارت میں غیر مجاز تعمیرات کی بات سامنے آئی۔ اس کے بعد لکھنو ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ویریندر پرتاپ شُکل کے خلاف مقدمہ نمبر 08/2016 درج کرایا۔ جانچ کے بعد مجاز اتھارٹی نے 10 مئی 2016 کو غیر مجاز تعمیر کے خلاف مسماری کا حکم جاری کر دیا۔ لیکن، مسماری کا حکم جاری ہونے کے دو ماہ کے اندر ہی 5 جولائی 2016 کو اس حکم کو منسوخ بھی کر دیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande