امونیا گیس کے اخراج کا سانحہ: تروولور حادثے میں مرنے والوں کی تعداد نو ہو گئی، 67 مزدور اب بھی اسپتال میں زیرعلاج
تروولور، 23 جون (ہ س)۔ تمل ناڈو کے تروولور ضلع میں سمندری غذا کی پروسیسنگ فیکٹری میں امونیا گیس کے اخراج میں مرنے والوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ منگل کو علاج کے دوران مزید دو مزدوروں کی موت ہو گئی، جس سے کل تعداد نو ہو گئی۔ 67 افراد اسپتال میں داخل ا
گیس


تروولور، 23 جون (ہ س)۔ تمل ناڈو کے تروولور ضلع میں سمندری غذا کی پروسیسنگ فیکٹری میں امونیا گیس کے اخراج میں مرنے والوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ منگل کو علاج کے دوران مزید دو مزدوروں کی موت ہو گئی، جس سے کل تعداد نو ہو گئی۔ 67 افراد اسپتال میں داخل اور زیر علاج ہیں۔

انتظامی حکام کے مطابق حادثے سے مجموعی طور پر 77 افراد متاثر ہوئے۔ متاثرین میں آسام کے 20، اڈیشہ کے 29، جھارکھنڈ کے آٹھ اور تمل ناڈو کے پانچ مزدور شامل ہیں۔ زیادہ تر متاثرین پردیسی مزدور ہیں جو فیکٹری میں ملازم تھے اور احاطے کے قریب رہتے تھے۔

اسپتال کی معلومات کے مطابق، چنئی کے ویلز اسپتال میں داخل 33 مریضوں میں سے تین کی علاج کے دوران موت ہو گئی ہے، جب کہ دو صحت یاب ہو کر گھر لوٹ چکے ہیں۔ اس وقت وہاں 28 مریض زیر علاج ہیں۔ تروولور کے وینکٹیشور اسپتال میں داخل 19 مریضوں میں سے ایک کی موت ہوگئی ہے اور 18 زیر علاج ہیں۔

اسی طرح چنئی کے راجیو گاندھی سرکاری اسپتال میں داخل 13 مریضوں میں سے دو کی موت ہوچکی ہے، جب کہ 11 زیر علاج ہیں۔ اسٹینلے سرکاری اسپتال میں داخل 12 مریضوں میں سے دو کی موت ہو چکی ہے، اور باقی 10 طبی نگرانی میں ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق امونیا گیس سے متاثر ہونے والے مریضوں کو سانس لینے میں دشواری، آنکھوں اور سانس کی نلی میں شدید جلن، مسلسل کھانسی اور پھیپھڑوں سے متعلق پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کئی شدید بیمار مریضوں کو آئی سی یو میں داخل کر کے خصوصی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

حادثے میں اب تک مرنے والوں میں شیبانی، جمانی جوانگ، گیتا جوانگ، پورنیما جوانگ، سمباپتی جوانگ اور پربھاوتی جوانگ شامل ہیں۔ یہ سبھی اوڈیشہ کے رہنے والے بتائے جارہے ہیں۔ آسام کا رہنے والا چٹا ہستا بھی مرنے والوں میں شامل ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک نامعلوم مرد اور ایک نامعلوم خاتون بھی شامل ہیں۔

ریاستی حکومت نے حادثے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گیس کے اخراج کے حالات اور کیا حفاظتی معیارات پر عمل کرنے میں کوئی غفلت برتی گئی۔ انتظامیہ نے فیکٹری کے احاطے کو نگرانی میں رکھا ہے اور تکنیکی ماہرین کی مدد سے تفصیلی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

وہیںمتاثرہ مزدوروں کے اہل خانہ میں غم اور تشویش کا ماحول ہے۔ مزدوروں کے اہل خانہ، جو مختلف ریاستوں سے آئے ہیں، اسپتالوں اور انتظامی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے تمام زخمیوں کو بہترین طبی امداد اور حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف ضروری کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ حادثہ 21 جون کو تروولور ضلع میں پیریاپلائم کے نزدیک کنی گیپر گاوں میں سینٹ پیٹر اینڈ پال سی فوڈ ایکسپورٹ کمپنی میں پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق فیکٹری کے کولنگ سسٹم کے پائپ سے امونیا گیس اچانک لیک ہو گئی۔ چند منٹوں میں گیس پورے احاطے میں پھیل گئی اور وہاں موجود کارکنوں اور ملازمین کو اپنی زدمیں لے لیا۔

عینی شاہدین کے مطابق گیس لیک ہونے کے بعد کئی کارکنوں کو اچانک سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں شدید جلن اور گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسے جیسے حالات تیزی سے بگڑتے گئے، بہت سے لوگ بے ہوش ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ، پولیس، فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ صحت کی مشترکہ ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور متاثرہ افراد کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرتے ہوئے راحت اور بچاو آپریشن شروع کیا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande