
ممبئی، 23 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے معلومات کے حق (آر ٹی آئی) کے قواعد میں درخواست گزار کے لیے معلومات طلب کرنے کی وجہ بیان کرنا لازمی قرار دینے والی متنازع شرط نافذ کرنے کے صرف ایک ہفتے بعد ہی اسے واپس لے لیا ہے۔ 12 جون 2026 کو جاری کی گئی نئی مہاراشٹر معلومات کے حق کی ضابطہ بندی میں شامل اس شرط کو 19 جون 2026 کو منسوخ کردیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد حکومت کے پالیسی سازی کے طریقۂ کارپرسوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اطلاعاتی حق کے کارکن انیل گلگلی نے حکومت کے اس یو ٹرن پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر معلومات طلب کرنے کی وجہ بتانے کی شرط قانونی اوردرست تھی تواسے اتنی جلدی واپس کیوں لیا گیا، اور اگر یہ شرط غلط تھی تو پھر اسے قواعد میں شامل کرنے کا مقصد کیا تھا؟انہوں نے کہا کہ معلومات کے حق کا قانون 2005 کسی بھی شہری کو معلومات حاصل کرنے کے لیے وجہ بیان کرنے کا پابند نہیں بناتا، اس کے باوجود حکومت کی جانب سے ایسی شرط نافذ کرنے کی کوشش نئے قواعد کی تیاری کے پورے عمل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔ گلگلی کے مطابق نئے قواعد تیار کرتے وقت قانون کے بنیادی اصولوں اور موجودہ دفعات کا خاطر خواہ خیال نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان قواعد میں کی گئی ترامیم کو ریاستی مقننہ کے سامنے پیش کیے بغیر محکمہ عمومی انتظامیہ کے ذریعے نافذ کیا گیا، جس سے پوری کارروائی کی شفافیت پر بھی شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کی مکمل جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران، بالخصوص پرنسپل سیکریٹری سطح کے عہدیداروں کی ذمہ داری طے کی جانی چاہیے۔انیل گلگلی نے واضح کیا کہ معلومات طلب کرنے کی وجہ بتانے کی شرط کا خاتمہ صرف پہلا قدم ہے اور نئی ضابطہ بندی میں شامل دیگر متنازع دفعات پر بھی نظرثانی ضروری ہے۔ ان کے مطابق شہریت کا ثبوت پیش کرنے کی لازمی شرط، اپیل فیس، وکیل کے ذریعے نمائندگی پر پابندیاں اور آر ٹی آئی درخواست کے لیے 150 الفاظ کی حد جیسی شرائط معلومات کے حق کے بنیادی مقصد کے منافی ہیں اور شہریوں کے حقوق کو محدود کرتی ہیں۔ دریں اثنا، اطلاعاتی حق کے شعبے سے وابستہ کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ مہاراشٹر حکومت پوری ضابطہ بندی کا ازسرنو جائزہ لے اور اسے زیادہ شہری دوست اور معلومات کے حق کے قانون 2005کے مطابق بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک ہفتے کے اندر حکومت کی جانب سے متضاد فیصلے کیے جانے سے نہ صرف نئے آر ٹی آئی قواعد کی قانونی حیثیت بلکہ ان کی تیاری کے پورے عمل پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے