
ممبئی ، 23 جون (ہ س)۔ ریاست میں بجلی کی قلت، بڑھتی ہوئی بجلی طلب اور مختلف بجلی پیداوار یونٹوں کے بند پڑنے کے واقعات پر کانگریس مقننہ پارٹی کے لیڈر وجئے وڈیٹیوارنے اسمبلی میں توجہ دلاتے ہوئے الزام لگایا کہ ناقص معیار کے کوئلے کی فراہمی کے باعث بجلی پیداوار کے متعدد یونٹ متاثر ہوئے ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویسنے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو فراہم کیا جانے والا کوئلہ معیاری نہیں ہے، جس کے سبب بجلی پیداوار پر اثر پڑ رہا ہے۔وجئے وڈیٹیوار نے کہا کہ رواں موسمِ گرما میں بجلی کی طلب ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی، جبکہ مہاجنرمتی کے کئی بجلی پیداوار یونٹوں میں تکنیکی خرابیاں پیدا ہوئیں۔ ان کے مطابق ناقص معیار کا کوئلہ اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خراب معیار کا کوئلہ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا جائے۔وزیر اعلیٰ فڈنویس نے ایوان کو بتایا کہ کوئلے کی فراہمی کے مسئلے پر مرکزی وزیرِ کوئلہ کے ساتھ میٹنگ کی گئی ہے اور کوئلے کے مناسب سیمپلنگ کے حوالے سے ریاست کا مؤقف پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ جاری ہونے والے ٹینڈرز میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ ناقص معیار کا کوئلہ فراہم کرنے والے یا اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے ادارے شامل نہ ہو سکیں۔اس دوران وجئے وڈیٹیوار نے سوال اٹھایا کہ ریاست میں بجلی کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جدید ٹیکنالوجی پر مبنی زیادہ صلاحیت کے حامل نئے بجلی پیداوار یونٹ قائم کیے جائیں گے؟ اس پر حکومت نے جواب دیا کہ چندرپورمیں 800 میگاواٹ کے سپر کریٹیکل پاور پروجیکٹ کے قیام کے سلسلے میں جائزہ اور معائنہ کا عمل جاری ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے