آبنائے ہرمز عبور کرکے کھاد سے لدے 4 مال بردار جہاز بھارت کی جانب روانہ
۔ حکومت نے کھاد کا وافر ذخیرہ موجود ہونے کا دعوی کیاٰ
۔ حکومت نے کھاد کا وافر ذخیرہ موجود ہونے کا دعوی کیاٰ


نئی دہلی، 23 جون (ہ س)۔ عالمی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے طویل غیر یقینی صورتحال کے درمیان بھارت کے لیے ایک راحت بخش خبر سامنے آئی ہے۔ یوریا، ڈائی امونیم فاسفیٹ (ڈی اے پی) اور سلفر کی کھیپ لے کر آنے والے چار مال بردار جہاز گزشتہ ہفتے کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کرکے بھارتی بندرگاہوں کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔ ان جہازوں کے مقررہ بھارتی بندرگاہوں پر پہنچنے کے بعد ملک میں موجود کھاد کے ذخائر مزید مستحکم ہوں گے۔

حکومت ہند کے مطابق یوریا، ڈائی امونیم فاسفیٹ (ڈی اے پی) اور سلفر سے لدے چار مال بردار جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔ یہ جہاز اب بھارت کی مختلف بندرگاہوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ جہاز کرشناپٹنم، کاکیناڈا، پارادیپ اور مُندرا بندرگاہوں پر پہنچیں گے، جہاں کھاد کی کھیپ کو تیزی سے اتار کر کسانوں کو بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

حکومت کے مطابق 22 جون تک ملک میں مجموعی طور پر 196.08 لاکھ ٹن کھاد کا ذخیرہ دستیاب ہے، جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران موجود 168.67 لاکھ ٹن کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ موجودہ ذخیرے میں 81.44 لاکھ ٹن یوریا، 20.92 لاکھ ٹن ڈی اے پی، 55.91 لاکھ ٹن این پی کے، 12.68 لاکھ ٹن ایم او پی اور 25.13 لاکھ ٹن ایس ایس پی شامل ہیں۔

اس دوران زرعی شعبے میں کھاد کی طلب میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رواں سال یکم مارچ سے 21 جون کے درمیان مجموعی طور پر 153.4 لاکھ ٹن کھاد فروخت ہوئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ مقدار 140.2 لاکھ ٹن تھی۔ اس طرح اس سال فروخت میں 13.2 لاکھ ٹن کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بھارتی کسانوں کو عالمی منڈی کی غیر یقینی صورتحال سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے مقامی پیداوار کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہدفی درآمدات کو بھی فروغ دیا ہے۔ مغربی ایشیا کے بحران کے بعد گھریلو پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 133.12 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ اس مضبوط مقامی بنیاد کے ساتھ اسی مدت کے دوران بھارتی بندرگاہوں پر مجموعی درآمدات 43.69 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں۔

حکومت نے یوریا کی فراہمی عُمان، ملائیشیا، ویتنام، جارجیا، نائجیریا، روس، فن لینڈ، مصر، الجزائر، ترکیہ اور نیدرلینڈز سے یقینی بنائی ہے۔

اسی طرح ڈی اے پی اور این پی کے کھادوں کی فراہمی بحیرہ احمر کے بحری راستے کے ذریعے روس، مراکش، مصر، امریکہ، اردن، جنوبی کوریا، تیونس اور سعودی عرب سے یقینی بنائی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande