
ممبئی ، 23 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ضلع نندوربار میں سماجی بہبود محکمہ کے زیر انتظام گرلز ہاسٹل میں 22 طالبات کو مبینہ طور پر زہر دینے کی کوشش کے الزام کے بعد شدید ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ اس معاملے کے خلاف طالبات نے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے ساتھ مل کر منگل کو ہاسٹل کے باہر احتجاج کیا اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس معاملے کی تحقیقات نندوربار پولیس کر رہی ہے۔پولیس کے مطابق پیر کی شام دو خاتون ملازمین کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو کی ایک آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی ہے۔ اس آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر طالبات کے کھانے اور پانی میں زہر ملانے کے بارے میں بات چیت سنائی دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ آڈیو وائرل ہونے کے بعد پورے ضلع میں تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔احتجاج کے دوران طالبات اور طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے متعلقہ خاتون ملازم کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ طالبات نے اس واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے نے ہاسٹل میں رہنے والی طالبات کی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ ہاسٹل انتظامیہ کے کردار پر بھی شکوک پیدا ہوئے ہیں۔منگل کی صبح سے ہی ہاسٹل کی طالبات نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے بارے میں پہلے بھی متعلقہ حکام کو شکایات دی گئی تھیں، لیکن ان شکایات کے باوجود کوئی مؤثر یا ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیا کہ طالبات کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے ذمہ دار عملے کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ 22 طالبات کی جانوں سے براہ راست کھلواڑ کے مترادف ہے۔مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ اگر سماجی بہبود محکمہ کے زیر انتظام ہاسٹلوں میں اس نوعیت کے واقعات پیش آ رہے ہیں تو والدین اپنی بیٹیوں کو وہاں کیسے بھیج سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آڈیو کلپ میں واضح شواہد موجود ہیں تو انتظامیہ کارروائی سے گریز کیوں کر رہی ہے اور آخر کس کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ طلبہ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مبینہ طور پر ملوث خاتون ملازمین کو فوری گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کو پورے ضلع میں مزید وسیع اور شدت اختیار دی جائے گی۔ پولیس اور متعلقہ حکام نے معاملے کی تحقیقات جاری رکھنے اور تمام الزامات کی جانچ کے بعد مناسب کارروائی کا یقین دلایا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے