منی پور میں عسکریت پسند گرفتار، مشترکہ مہم میں بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد
امپھال، 23 جون (ہ س)۔ منی پور میں سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندی کے خلاف مہم کے تحت بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایک سرگرم عسکریت پسند کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ مشترکہ مہم میں بھاری مقدار میں اسلحہ، گولا بارود اور جنگی سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔
منی پور میں چلائی جا رہی مہم سے متعلق تصویر۔


امپھال، 23 جون (ہ س)۔ منی پور میں سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندی کے خلاف مہم کے تحت بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایک سرگرم عسکریت پسند کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ مشترکہ مہم میں بھاری مقدار میں اسلحہ، گولا بارود اور جنگی سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ وہیں، دو مبینہ بھتہ خوروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

منگل کے روز دی گئی معلومات کے مطابق، مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سیکورٹی فورسز نے 22 جون کو آر پی ایف/پی ایل اے کے سرگرم کیڈر اوینام دھنراج سنگھ عرف ابونگ (29) کو امپھال مغربی ضلع کے کھومانلامپاک میں واقع آئی ایس بی ٹی کے قریب سے گرفتار کیا۔ وہ تھوبل ضلع کے لیرونگتھیل پترا ئیریپوک علاقے کا رہائشی ہے۔ اس کے قبضے سے ایک ہونڈا ایکٹیوا اسکوٹر بھی ضبط کیا گیا ہے۔

ایک اور مہم میں مسلح عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر منی پور پولیس، سی آر پی ایف، آر اے ایف، کوبرا اور فوج نے 20 جون کو لیلون ویفیئی، لیلون منلوئی، مولہوئی، پی۔ مولڈنگ، لیلون کھونو اور آس پاس کے علاقوں میں مشترکہ مہم شروع کی۔ مہم کے دوران مشتبہ عسکریت پسندوں کے ساتھ ٹکر بھی ہوئی۔ 21 اور 22 جون تک چلنے والی مہم میں سیکورٹی فورسز نے 36 ہتھیار برآمد کیے، جن میں دو اے کے-47 رائفلیں، ایک ایم-4 کاربائن، دو ایس ایل آر، ایک ایس کے ایس رائفل، ایک امپرووائزڈ اسنائپر 0.303 رائفل، 17 سنگل اور ڈبل بیرل بندوقیں نیز 11 ایس بی ایل رائفلیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی مقدار میں گولا بارود، مواصلاتی آلات اور دیگر جنگی سامان بھی ضبط کیا گیا ہے۔

اسی سلسلے میں 21 جون کو سیکورٹی فورسز نے تھوبل بازار علاقے سے کے سی پی (ایم ایف ایل) کے دو سرگرم بھتہ خوروں کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت امپھال مغربی ضلع کے ابوجام سمیت سنگھ عرف تانگبی (20) اور نونی ضلع کے مکوچنگ گنگمئی (23) کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے قبضے سے 48 ڈونیشن کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔

سیکورٹی ایجنسیوں نے کہا ہے کہ ریاست میں عسکریت پسندی اور بھتہ خوری کی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے ایسی مہمیں آگے بھی جاری رہیں گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande