
ممبئی، 22 جون (ہ س)۔شیوسینا میں ایک بار پھر سیاسی اختلافات شدت اختیار کرنے کے بعد پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے نے باغی ارکانِ پارلیمنٹ کے حلقوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے اندر جاری سرگرمیوں اور حالیہ سیاسی پیش رفت کے تناظر میں اس دورے کو تنظیمی سطح پر اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں شیوسینا کی جانب سے نئی دہلی میں طلب کی گئی پارلیمانی پارٹی کی اہم میٹنگ میں لوک سبھا کے نو میں سے چھ ارکانِ پارلیمنٹ غیر حاضر رہے تھے۔ اس سے قبل ماتوشری میں منعقدہ اجلاس میں بھی ان ارکان نے شرکت نہیں کی تھی، جس کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آئے اور سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔سیاسی حلقوں میں یہ بھی چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) کے چھ ارکانِ پارلیمنٹ الگ گروپ تشکیل دے کر نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا کے ساتھ جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ایک مکتوب بھی لوک سبھا اسپیکر کو پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ جن ارکانِ پارلیمنٹ کے نام اس سیاسی پیش رفت سے جوڑے جا رہے ہیں ان میں پربھنی کے سنجے جادھو، یوتمال-واشم کے سنجے دیشمکھ، ہنگولی کے ناگیش پاٹل اشٹیکر، شیردی کے بھاؤ صاحب واکچورے، شمال مشرقی ممبئی کے سنجے دینا پاٹل اور عثمان آباد کے اوم راجے نمبالکر شامل ہیں۔اسی پس منظر میں ادھو ٹھاکرے نے متعلقہ حلقوں میں جا کر کارکنوں اور مقامی عہدیداروں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس مہم کا آغاز 21 جون کو شمال مشرقی ممبئی کے بھانڈوپ اور کانجور مارگ علاقوں کے دورے سے ہو چکا ہے۔ پارٹی پروگرام کے مطابق 27 جون کو ادھو ٹھاکرے یاوتمال-واشم اور ہنگولی، 28 جون کو پربھنی اور عثمان آباد جبکہ 29 جون کو شیردی لوک سبھا حلقے کا دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ مقامی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ کارکنوں اور عہدیداروں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔پارٹی ذرائع کے مطابق ان دوروں کا مقصد کارکنوں میں پیدا ہونے والی بے چینی اور ابہام کو دور کرنا، تنظیمی یکجہتی کو مضبوط بنانا اور شیوسینکوں سے پارٹی کے ساتھ وفاداری برقرار رکھنے کی اپیل کرنا ہے۔ ادھو ٹھاکرے مختلف اجتماعات میں کارکنوں سے جذباتی اور سیاسی دونوں سطحوں پر رابطہ قائم کریں گے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ شیوسینا کے اندر جاری تازہ پیش رفت کے باعث مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر سرگرمی اور کشیدگی بڑھنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے