پاکستان کیلئے جاسوسی معاملے میں گرفتار مشتاق کے پولیس ریمانڈ میں تین دن کی توسیع
جے پور، 22 جون (ہ س)۔ پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار مشتاق کو پیر کے روز پانچ دن کی پولیس ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ایڈیشنل سینئر سول جج اور ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نمبر 3، جے پور میٹروپولیٹن-I کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ سماعت کے
پاکستان کیلئے جاسوسی معاملے میں گرفتار مشتاق کے پولیس ریمانڈ میں تین دن کی توسیع


جے پور، 22 جون (ہ س)۔

پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار مشتاق کو پیر کے روز پانچ دن کی پولیس ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ایڈیشنل سینئر سول جج اور ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نمبر 3، جے پور میٹروپولیٹن-I کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ سماعت کے دوران سی آئی ڈی انٹیلی جنس نے مزید تفتیش کے لیے مزید تین روزہ پولیس ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ اب اسے 25 جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

سی آئی ڈی انٹیلی جنس کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر سدیش ستوان نے بتایا کہ تحقیقات میں ملزم کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر)، بینک اکاو¿نٹس اور مالیاتی لین دین کی اچھی طرح جانچ کی جائے گی۔ تفتیش میں متعدد مشتبہ افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کی شناخت سیکیورٹی اداروں نے کی ہے۔ تاہم تفتیش کے پیش نظر ان کی شناخت جاری نہیں کی گئی ہے۔ تفتیشی اداروں کے مطابق ملزم سے پانچ روزہ ریمانڈ کے دوران پوچھ گچھ کی گئی۔اسے ان مقامات پر بھی لے جایا گیا جہاں اس نے مبینہ طور پر تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔ اس کی مقامی حمایت کا تعین کرنے کے لیے ان مقامات پر موقع پر معائنہ کیا گیا۔ سیکیورٹی ایجنسیاں اس کے ممکنہ ساتھیوں کے کردار کی بھی تفتیش کر رہی ہیں۔

سی آئی ڈی انٹیلی جنس نے مشتاق کو جیسلمیر سے گرفتار کیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ گزشتہ دو سالوں سے پاکستان میں مقیم ہینڈلرز سے رابطے میں تھا۔ الزام ہے کہ اپنے ہینڈلرز کی ہدایت پر اس نے چائے کی دکان کھولی اور وہاں لائیو فیڈ کیمرے لگانے کی تیاری کر رہا تھا۔ تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق وہ فوج اور بی ایس ایف کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا تھا۔ گوگل میپس اور کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے وہ پاکستان کو حساس فوجی مقامات کی درست جگہیں، تصاویر اور ویڈیوز بھیجتا تھا۔ تفتیش کے دوران اس کے موبائل فون پر دو مشکوک نمبر بھی ملے جو خالد اور نذیر احمد کے ناموں سے محفوظ تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ دونوں پاکستان میں ایجنٹوں کو تربیت دینے کے لیے کام کرتے ہیں۔

سیکیورٹی ادارے ملزم کے نیٹ ورک، رابطوں اور مالی لین دین کی مکمل تفتیش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں دیگر افراد کے ممکنہ ملوث ہونے کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں کا خیال ہے کہ مزید تحقیقات سے کئی اہم حقائق سامنے آسکتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande