
فلم سازی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ کیا جائے: جِشنو دیو ورماممبئی، 22 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر کے گورنر جِشنو دیو ورما نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے تخلیقی شعبے کے لیے بے شمار نئے امکانات پیدا کیے ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور محتاط انداز میں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی ایک انقلابی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے، لیکن اس کے استعمال کے دوران فلم سازوں اور تخلیق کاروں کے دانشورانہ املاک کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔گورنر نے یہ خیالات ممبئی میں 19ویں دو سالہ ممبئی بین الاقوامی فلمی میلے (میفف-2026) کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔ اس میلے میں مختصر فلموں، دستاویزی فلموں اور اینی میشن فلموں کی نمائش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران میفف نے دستاویزی، مختصر اور اینی میشن فلموں کے ایک باوقار بین الاقوامی پلیٹ فارم کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی نے ممبئی میں ورلڈ آڈیو ویژول اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ (ویوز) کا افتتاح کیا تھا، جس نے تخلیقی معیشت اور ڈیجیٹل اسٹوری ٹیلنگ کے میدان میں بھارت کی عالمی سطح پر شناخت کو مزید تقویت دی۔گورنر نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ رواں سال میلے کے لیے دنیا کے 46 ممالک سے 1459 فلمیں موصول ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ میلے میں 42 سے زائد بھارتی زبانوں اور 30 بین الاقوامی زبانوں کی فلمیں پیش کی جا رہی ہیں، جو مختلف ثقافتوں اور انسانی تجربات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی فلمیں معاشرتی حقائق کو اجاگر کرتی ہیں، تاریخ کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں، روایتی تصورات کو چیلنج کرتی ہیں اور سماجی تبدیلی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ دستاویزی فلمیں مختلف طبقات کو اظہار کا موقع فراہم کرتی ہیں اور ان اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کراتی ہیں جو مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔بھارت کی نوجوان آبادی کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے دیہی اور قبائلی علاقوں کے نوجوان فلم سازوں کو اپنی زندگی، روایات اور جدوجہد پر مبنی کہانیاں پیش کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے خواتین فلم سازوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت پر بھی زور دیا تاکہ ان کے منفرد تجربات اور نقطۂ نظر سے ہندوستانی فلمی روایت مزید مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے فلم سازی کو زیادہ قابلِ رسائی اور جمہوری بنا دیا ہے اور نئی تخلیقی راہیں کھولی ہیں۔ گورنر نے میفف اور ریاست کی مختلف جامعات کے میڈیا اور تفریحی شعبوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ طلبہ عالمی سینمائی رجحانات سے واقف ہو سکیں اور نئی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ مل سکے۔اس موقع پر گورنر نے پولینڈ کی فلم ’’سلور‘‘ کو بہترین دستاویزی فلم کے لیے گولڈن کانچ ایوارڈ سے نوازا۔ ایران کی فلم ’’انڈر دی سنو‘‘ کو بین الاقوامی زمرے میں بہترین مختصر فلم کے لیے سلور کانچ ایوارڈ جبکہ جرمنی کی فلم ’’مایاز سانگ‘‘ کو بہترین اینی میشن فلم کا سلور کانچ ایوارڈ دیا گیا۔ تقریب میں معروف فلم ہدایت کار آشوتوش گواریکر نے بہترین آواز، بہترین ایڈیٹنگ اور بہترین سنیماٹوگرافی کے بین الاقوامی اعزازات بھی پیش کیے۔اس موقع پر وزارت اطلاعات و نشریات کے ایڈیشنل سکریٹری پربھات کمار، ایڈیشنل سکریٹری و مالیاتی مشیر دیپک نارائن، نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر پرکاش مگدوم، مراٹھی زبان محکمہ کے سکریٹری ڈاکٹر کرن کلکرنی اور گورنر کے جوائنٹ سکریٹری ایس رام مورتی سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے