مغربی بنگال بجٹ 2026: ملازمین کے مہنگائی الاؤنس میں 38 فیصد اضافہ
کولکاتہ، 22 جون (ہ س):۔ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اپنے پہلے مکمل بجٹ میں لاکھوں سرکاری ملازمین، نیم سرکاری ملازمین، اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور پنشنرز کو اہم راحت فراہم کی ہے۔ وزیر خزانہ سوپن داس گپتا نے پیر کو اسمبلی میں سا
مغربی بنگال بجٹ 2026: ملازمین کے مہنگائی الاو¿نس میں 38 فیصد اضافہ


کولکاتہ، 22 جون (ہ س):۔

مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اپنے پہلے مکمل بجٹ میں لاکھوں سرکاری ملازمین، نیم سرکاری ملازمین، اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور پنشنرز کو اہم راحت فراہم کی ہے۔

وزیر خزانہ سوپن داس گپتا نے پیر کو اسمبلی میں سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے سے ریاستی ملازمین کے لیے کل مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) کو 18 فیصد سے بڑھا کر 38 فیصد کردیا جائے گا۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ بڑھے ہوئے نرخوں کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔ مزید برآں، پنشنرز کو 20 فیصد اضافی مہنگائی الاؤنس (ڈی آر) دیا گیا ہے۔ یہ اعلان ان ملازمین تنظیموں کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے مہنگائی الاؤنس اور بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سوپن داس گپتا نے کہا کہ ریاستی سرکاری ملازمین، نیم سرکاری ملازمین، اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ سرکاری اسکیموں کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے تعاون کے اعتراف میں، حکومت نے مہنگائی الاؤنس میں نمایاں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ریاستی ملازمین اور پنشنرز کو موجودہ 18 فیصد کے علاوہ 20 فیصد اضافی مہنگائی الاؤنس ملے گا۔ اس کے نتیجے میں کل 38 فیصد مہنگائی الاؤنس ملے گا۔ یہ فیصلہ ملازمین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

مغربی بنگال میں مہنگائی بھتے کو لے کر کئی سالوں سے تنازعہ جاری ہے۔ پچھلی ترنمول کانگریس حکومت کے دور میں ملازمین تنظیموں نے مساوی ڈی اے اور بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے پر ریاست بھر میں متعدد احتجاجی مظاہرے ہوئے اور یہ معاملہ عدالتوں تک بھی پہنچا۔

فروری میں پیش کیے گئے عبوری بجٹ کے دوران اس وقت کے وزیر خزانہ چندریما بھٹاچاریہ نے مہنگائی الاؤ نس میں چار فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ تاہم کئی ملازمین تنظیموں نے الزام لگایا کہ اعلان کردہ تنخواہوں میں اضافے پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے ملازمین میں مسلسل عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande