
نئی دہلی، 21 جون (ہ س)۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز مغربی بنگال کے کولکاتا میں واقع شیاما پرساد مکھرجی پورٹ پر منعقدہ ایک شاندار تقریب میں بھارتی بحریہ کے لیے ملک میں ہی تیار کردہ تین جدید ترین بحری جہاز آئی این ایس اگریہ ، آئی این ایس دوناگیری اور آئی این ایس سنشودھک قوم کے نام وقف کیے۔ اس موقع پر بحریہ کے سربراہ اور سینئر فوجی افسران کی موجودگی میں وزیرِ اعظم نے ربن کاٹ کر ان تینوں جہازوں کو باضابطہ طور پر بحریہ میں شامل کیا۔
منعقدہ پروگرام میں وزیرِ اعظم نے بحریہ اور ان منصوبوں سے وابستہ سائنس دانوں، انجینئروں اور مزدوروں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس حقیقت کی گواہ ہے کہ سمندری صلاحیتوں کے بغیر کوئی بھی ملک بڑی طاقت نہیں بن سکتا، کیونکہ ترقی، سلامتی اور خوشحالی کا تعلق سمندر سے ہے۔ آج دنیا کی زیادہ تر تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے اور دنیا کو جوڑنے والے ڈیٹا کے وسیع نیٹ ورک بھی سمندر کے نیچے سے گزرتے ہیں۔ مستقبل میں ضروری معدنیات، گہرے سمندر کے وسائل اور توانائی کے نئے ذرائع بھی سمندر ہی سے وابستہ ہوں گے۔
اس دوران تقریب میں تینوں فوجی جہازوں کے بحریہ میں باضابطہ داخلے کے وقت روایتی بگل کی آواز کے ساتھ قومی پرچم اور بحریہ کا پرچم لہرایا گیا۔ 21 جون کو ’’عالمی یومِ ہائیڈروگرافی‘‘ کے موقع پر ملک کے جدید ترین سروے جہاز آئی این ایس سنشودھک کو بحریہ کا حصہ بنایا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر جہازوں کا معائنہ کیا اور ان پر تعینات ہونے والے عملے کے ارکان سے ملاقات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
دفاعی شعبے میں خود انحصاری پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت صرف دفاعی سازوسامان کا خریدار بن کر نہیں رہنا چاہتا بلکہ ایک بڑے صنعت کار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارتی بحریہ نے 40 سے زائد ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ جنگی جہاز اور آبدوزیں اپنے بیڑے میں شامل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی این ایس وکرانت سے لے کر آج تک کا سفر بھارت کی بڑھتی ہوئی خود کفالت کی علامت ہے۔
وزیرِ اعظم نے دفاعی پیداوار کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2014 میں ملک کی دفاعی پیداوار تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے تھی، جو اب بڑھ کر 1.8 لاکھ کروڑ روپے ہو چکی ہے۔ اسی طرح دفاعی برآمدات 700 کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں اور بھارتی دفاعی مصنوعات آج تقریباً 80 ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک سمندری طاقت کے اگلے مرحلے تک پہنچے۔ اسی مقصد کے تحت بھارت جہاز سازی کے شعبے کے لیے ایک نئی وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد پالیسی اصلاحات کی گئی ہیں اور گھریلو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ جہاز سازی، جہازوں کی مرمت اور ایم آر او (دیکھ بھال، مرمت اور اوورہال) کو ایک بڑے قومی مشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بندرگاہ ملک کے پہلے وزیرِ صنعت ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے نام سے منسوب ہے اور بھارت جس نئے سمندری دور کی جانب بڑھ رہا ہے، اس میں مغربی بنگال کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔ یہاں بندرگاہوں، صنعتوں، ہنرمندی اور صلاحیتوں کے بے پناہ مواقع موجود ہیں جو سمندری معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ آنے والے وقت میں مغربی بنگال بھارت کی بلیو اکانومی، میری ٹائم مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور ساحلی ترقی کا ایک اہم مرکز بنے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی بحریہ کے وارشپ ڈیزائن بیورو کی جانب سے ڈیزائن کیے گئے ان تینوں جہازوں کی تعمیر کولکاتا میں واقع گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز (جی آر ایس ای) نے کی ہے۔ ان کی تعمیر میں 75 فیصد سے زائد مقامی مواد استعمال کیا گیا ہے اور 200 سے زیادہ ایم ایس ایم ای اداروں نے اس میں حصہ لیا ہے۔
آئی این ایس دوناگیری پروجیکٹ-17اے کے تحت تیار کیا گیا 6,670 ٹن وزنی اور 149 میٹر طویل جدید اسٹیلتھ فریگیٹ ہے۔ یہ براہموس میزائلوں اور درمیانی فاصلے کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام سے لیس ہے۔
آئی این ایس اگرے ارنالا کلاس کا اینٹی سب میرین وارفیئر شالو واٹر کرافٹ ہے۔ 77 میٹر طویل یہ جنگی جہاز کم گہرے سمندری علاقوں میں دشمن کی آبدوزوں کا سراغ لگانے اور انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آئی این ایس سنشودھک 3,400 ٹن وزنی جدید ہائیڈروگرافک سروے جہاز ہے، جو سمندری سروے، بحری نقشہ سازی اور سمندری سائنسی اعداد و شمار کے جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ جدید زیرِ آب اور ریموٹلی آپریٹڈ سروے نظاموں سے لیس ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد