راجستھان کے سرحدی علاقوں کو ریل نیٹ ورک سے جوڑنے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے: وزیر ریلوے
بیکانیر، 21 جون (ہ س)۔ ریلوے، اطلاعات و نشریات، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو اور قانون و انصاف اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر مملکت ارجن رام میگھوال نے اتوار کو بیکانیر ریلوے اسٹیشن سے بیکانیر-لال گڑھ-امداواد (ساب
راجستھان کے سرحدی علاقوں کو ریل نیٹ ورک سے جوڑنے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے: وزیر ریلوے


بیکانیر، 21 جون (ہ س)۔

ریلوے، اطلاعات و نشریات، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو اور قانون و انصاف اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر مملکت ارجن رام میگھوال نے اتوار کو بیکانیر ریلوے اسٹیشن سے بیکانیر-لال گڑھ-امداواد (سابرمتی) ایکسپریس ٹرین سروس کا افتتاح کیا، اسے جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔

اس موقع پر مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا کہ وزارت ریلوے راجستھان کے سرحدی علاقوں کو ایک مضبوط ریل نیٹ ورک سے جوڑنے کے لیے ایک پرجوش منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت بیکانیر، جیسلمیر، سری گنگا نگر، اور باڑمیر اضلاع کے کئی گاو¿ں کو ریلوے کی سہولیات سے جوڑنے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کے لیے ڈی پی آر کی تیاری سمیت مختلف پراسیسز جاری ہیں۔ ویشنو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک بھر میں 1300 ریلوے اسٹیشنوں کو دوبارہ تیار کیا جا رہا ہے۔ کئی اسٹیشنوں پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیکانیر ریلوے اسٹیشن کی دوبارہ ترقی کے لیے جون میں نیا ٹینڈر جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جیسلمیر سمیت مختلف ریلوے اسٹیشنوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے، جس کی ہندوستان اور بیرون ملک سیاحوں کی طرف سے تعریف کی جارہی ہے۔

ریلوے کے وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کا عزم ہے کہ وہ 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنائیں۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ہر شہری، نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کا اس کو حاصل کرنے میں اہم رول ہے۔

ویشنو نے کہا کہ بیکانیر سے احمد آباد تک نئی ریل سروس کے آغاز کے ساتھ ہی مستقبل میں دوسری ٹرینیں چلانے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریل لائنوں کی برقی کاری اور انفراسٹرکچر کی توسیع سے مستقبل میں ریلوے کا چہرہ مکمل طور پر بدل جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں صنعت کو فروغ دینے کے لیے 24 ماڈل کارگو گتی شکتی ٹرمینلز تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں بیکانیر خطے کے ارد گرد چھ کارگو ٹرمینلز بھی شامل ہیں۔ اس وقت راجستھان میں تقریباً 76,000 کروڑ روپے کے ریل ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں۔ مکمل ہونے پر، یہ پروجیکٹ ریاست کے ریل کے منظر نامے کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیں گے۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ اس سال راجستھان کو ریلوے کی ترقی کے لیے 10,228 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ بیکانیر کو بہادری اور روایت کی سرزمین کے طور پر بیان کرتے ہوئے، انہوں نے اس کے بھوجیا اور رسگلوں کا ذکر کیا اور اندرا گاندھی کینال پروجیکٹ کی ترقی میں ان کے تعاون کے لیے سابق شاہی خاندان کی تعریف کی۔

قانون و انصاف اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر مملکت ارجن رام میگھوال نے کہا کہ یہ بیکانیر کے لیے ایک تاریخی اور اہم دن ہے۔ بیکانیر سے احمد آباد تک یہ ریل سروس ہزاروں مسافروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande