
پٹنہ، 21 جون (ہ س)۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت کے جمہوری شعورنے ہر بحران کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ جس ملک نے انگریزی اقتدار کی زنجیریں توڑیں، اسی نے جمہوریت پر آئے بحران، یعنی ایمرجنسی کے تاریک دور کا بھی مقابلہ کیا۔ اسی جدوجہد، شعور اور جمہوری ورثے کی یاد تازہ کرنے کے لیے پٹنہ ایک بار پھر قومی مباحثے کا مرکز بننے جا رہا ہے۔ ملک کی پہلی کثیر لسانی خبر رساں ایجنسی ہندوستھان سماچار 24 جون (بدھ) کو دوپہر 1:30 بجے پٹنہ کے میٹھاپور انسٹی ٹیوشنل ایریا میں واقع چندر گپت مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں ایمرجنسی کے 50 سال: بہار تحریک اور ایمرجنسی کے موضوع پر ایک قومی مذاکرہ کا انعقاد کرے گی۔
اس کے کنوینر اور ہندوستھان سماچار کے چیف کوآرڈینیٹر ڈاکٹر راجیش تیواری نے بتایا کہ اس سمپوزیم کے کلیدی مقرر اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس (آئی جی این سی اے) کے چیئرمین اور ہندوستھان سماچار کے گروپ ایڈیٹر رام بہادر رائے ہوں گے۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل آمبیکر شریک ہوں گے۔ پروگرام کی صدارت ہندوستھان سماچار گروپ کے چیئرمین اروند بھال چندر مارڈیکر کریں گے۔ بہار کے وزیر برائے فن و ثقافت اور کان کنی و ارضیات ڈاکٹر پرمود کمار مہمان اعزازی ہوں گے۔ چندر گپت مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ پٹنہ کے چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر اور ڈائریکٹر ڈاکٹر کمود کمار صدراستقابالیہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ سابق مرکزی وزیر اشونی چوبے اور سینئر کالم نگار و سابق ایم ایل سی ڈاکٹر ہریندر پرتاپ مقررین کے طور پر ایمرجنسی، صحافت کی آزادی اور بہار تحریک کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔
ڈاکٹر راجیش تیواری نے بتایا کہ یہ سمپوزیم نہ صرف ایمرجنسی کے سیاہ باب کی یاد دلائے گا بلکہ آزادی کے ’’سَوا‘‘ ( احساس خودی) کے مفہوم سے آگاہ کرتے ہوئے نئی نسل کو جمہوریت کے تحفظ کی اہمیت سے بھی روشناس کرائے گا۔ 25 جون 1975 کی رات بھارتی جمہوریت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے درج ہو گئی، جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ایمرجنسی کو بھارتی جمہوریت کا سب سے کڑا امتحان تصور کیا جاتا ہے۔ پریس پر سنسرشپ، اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریاں اور شہری حقوق پر پابندیوں نے جمہوریت کی بنیادی روح کو چیلنج کیا تھا۔
اس سال ایمرجنسی کی 50ویں سالگرہ ہے۔ اس موقع پر چندر گپت مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہونے والے اس مذاکرے میں جمہوریت، بہار تحریک، ایمرجنسی اور قوم کی تعمیر کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوگی۔ اس میں صحافت اور سماجی تحریکوں سے وابستہ متعدد سینئر شخصیات اپنے خیالات کا اظہار کریں گی۔
ڈاکٹر راجیش تیواری نے کہا کہ قدیم پاٹلی پتر بھارت کے سیاسی، ثقافتی اور فکری شعور کا مرکز رہا ہے۔ اسی سرزمین نے چندر گپت موریہ کی طرز حکومت کا مشاہدہ کیا ہے، شہنشاہ اشوک کی عوامی فلاح پر مبنی حکمرانی کا مشاہدہ کیا اور دنیا کو بہتر طرز حکمرانی کا راستہ دکھایا۔ یہی سرزمین تحریکِ آزادی کی گواہ بنی اور بعد میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے اٹھنے والی عوامی قوت کا مرکز بھی رہی۔ سال 1974 میں لوک نائک جے پرکاش نارائن کی قیادت میں بہار سے شروع ہونے والی تحریک محض سیاسی تبدیلی کی مہم نہیں تھی بلکہ قومی زندگی میں بیدار ہونے والی ’’سَوا‘‘ کا اظہار تھی۔ اس کے ایک سال بعد 25 جون 1975 کی رات نافذ کی گئی ایمرجنسی نے ملک کو یہ احساس دلایا کہ آزادی صرف انگریزی اقتدار سے نجات تک محدود نہیں، بلکہ فکر و اظہار اور اختلافِ رائے کے تحفظ کو بھی اپنے اندر شامل کرتی ہے۔ آج کی نسل نے نہ انگریزوں کا دور اقتدار دیکھا ہے اور نہ ہی ایمرجنسی کا زمانہ۔ اس صورتحال میں تاریخ کے ان ابواب سے اسے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد