
بیروت،20جون(ہ س)۔لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جمعہ کے روز جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود، جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں پر اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔ العربیہ/الحدث کی نامہ نگار نے آج ہفتہ کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے ضلع نبطیہ کے دیہات بشمول حبوش، م?فدون اور نبطیہ الفوقا پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ جنوبی قصبے باریش میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
نامہ نگار نے مزید بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے ضلع نبطیہ کے دیہات النمیریہ، شوکین، کفرجوز اور عربصالیم کے علاوہ جنوبی لبنان کے ضلع جزین میں جبل الرفیع کو بھی نشانہ بنایا۔ کفر رمان روڈ پر ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں لبنانی فوج کا ایک جوان ہلاک ہو گیا۔اس کے علاوہ بمباری کا دائرہ ملک کے مشرقی حصے تک پھیل گیا، جس کی زد میں مغربی بقاع کے قصبے لبایا اور سحمر آ گئے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گذشتہ روز حزب اللہ کے دو ذرائع اور ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے جنگ بندی کی تصدیق کی تھی۔ روئٹرز کے مطابق اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ جب تک حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی، تب تک کوئی جنگ نہیں ہو گی، انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنی فوجیں جنوبی لبنان میں رکھے گا، جہاں وہ سرحد کے ساتھ تقریباً 10 کلومیٹر کے علاقے پر قابض ہے۔دو لبنانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے گذشتہ روز سہ پہر جنگ بندی کے پہلے گھنٹے کے دوران تقریباً 12 فضائی حملے کیے، تاہم مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے کے بعد کوئی حملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
دریں اثنا لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات سے ملک کے جنوب اور مشرق میں شدید فضائی حملوں میں 47 افراد ہلاک اور 79 زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے بھی اعلان کیا ہے کہ لبنان میں پیش آنے والے ایک واقعے میں اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔اس کشیدگی نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو خطرے میں ڈال دیا تھا، کیونکہ ایران نے لبنان پر حملوں کے باعث جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ایک ملاقات ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ سوئس شہر بورگن اشتوک اسٹاک میں تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کی تیاریاں انتہائی حتمی مرحلے پر تھیں جب وائٹ ہاو¿س نے جمعرات کو اعلان کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس میں شرکت کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔تاہم بدھ کی رات امریکی ایرانی مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ان مذاکرات کے انعقاد کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan