بولیویا میں حکومت مخالف مظاہروں کے درمیان ایمرجنسی نافذ
لا پاز، 20 جون (ہ س)۔ جنوبی امریکی ملک بولیویا میں کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں اور سڑکوں کی ناکے بندی کے درمیان صدر روڈریگو پاز نے ہفتے کے روز ملک میں اگلے حکم تک ایمرجنسی نافذ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انا
Bolivia-State-of-emergency-dec


لا پاز، 20 جون (ہ س)۔ جنوبی امریکی ملک بولیویا میں کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں اور سڑکوں کی ناکے بندی کے درمیان صدر روڈریگو پاز نے ہفتے کے روز ملک میں اگلے حکم تک ایمرجنسی نافذ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق مزدور یونینوں، کسانوں کی تنظیموں اور سابق صدر ایوو مورالیس کے حامیوں کی قیادت میں جاری احتجاجی مظاہروں میں صدر پاز کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی دباو¿، ایندھن کے بحران اور زندگی گزارنے میں بڑھتےخرچ کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

جاری ناکہ بندی کے باعث ملک کے کئی حصوں میں خوراک، ایندھن اور ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ تقریباً 50 دنوں سے اقتصادی سرگرمیاں مفلوج ہیں، جس سے تجارت، نقل و حمل اور سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ملک سے خطاب میں، صدر پاز نے کہا کہ انہوں نے ملک بھر کی سڑکوں پر معمول کی ٹریفک بحال کرنے کے لیے ”اسٹیٹ آف ایکسپشن نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”بولیویا کے لوگ ایسی ناکہ بندی کے یرغمال نہیں رہ سکتے جو انہیں کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے، طبی دیکھ بھال کے حصول، ضروری سامان تک رسائی اور ان کے گھروں تک گروسری پہنچانے سے روکتا ہے۔“

صدر نے کہا کہ اس اقدام سے فوج اور پولیس کو پورے ملک میں نظم و نسق بحال کرنے اور ٹریفک اور ضروری خدمات کو معمول پر لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ منظم گروہ تشدد کا سہارا لے کر ملک کو جمود میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاز نے بتایا کہ حکومت نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کیے اور ان کے جائز مطالبات پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی لیکن ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ صورتحال بہتر نہ ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔

گزشتہ ماہ صدر پاز نے ایک قانون پر دستخط کیے تھے جس کے تحت فوج کو اندرونی تنازعات میں مداخلت کرنے کی اجازت دی گئی تھی ، حالانکہ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ ایمرجنسی کا نفاذ آخری حربہ ہوگا۔

سات ماہ قبل اقتدار سنبھالنے والے اعتدال پسند رہنما پاز کوحالیہ تاریخ میں ملک کے شدید ترین معاشی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔ غیر ملکی کرنسی کی کمی، قدرتی گیس کی برآمدات میں کمی، 40 سال کی بلند ترین سطح پر مہنگائی اور ایندھن کے بحران نے حکومت پر دباو¿ بڑھا دیا ہے۔

موجودہ بحران مئی میں اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب حکومت نے مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ایندھن کی طویل سبسڈی میں کٹوتی کی تھی ، جس سے احتجاج شروع ہوا۔

صدر کے استعفیٰ کے مطالبے کے علاوہ، یونینیں اجرتوں میں اضافے، ایندھن کی مناسب دستیابی اور ڈالر کی قلت کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ بحران اب صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑے سیاسی تصادم کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کے ممکنہ دور رس اثرات ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande