بنگلہ دیش میں تالاب کے گھاٹ سے بچی کو کھینچ لے گیا مگرمچھ، تلاش جاری
بنگلہ دیش میں تالاب کے گھاٹ سے بچی کو کھینچ لے گیا مگرمچھ، تلاش جاری ڈھاکہ، 02 جون (ہ س)۔ ملک میں باگیرہاٹ کی تاریخی خان جہاں (ر) درگاہ کے تالاب میں پوری رات ایک 7 سال کی بچی کی تلاش کی گئی۔ اس بچی کو نہاتے وقت مگرمچھ کھینچ کر لے گیا ہے۔ یہ واقعہ
بنگلہ دیش کے باگیرہاٹ میں تاریخی خان جہان علی درگاہ کے تقریباً واقع تالاب میں پیر کی رات ایک بچی کی تلاش کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ مگرمچھ بچی کو تالاب میں کھینچ لے گیا ہے۔ فائر بریگیڈ مقامی لوگوں کی مدد سے لاپتہ بچی کو ڈھونڈنے کے لیے ریسکیو آپریشن چلا رہا ہے۔ فوٹو: پروتھوم الو


بنگلہ دیش میں تالاب کے گھاٹ سے بچی کو کھینچ لے گیا مگرمچھ، تلاش جاری

ڈھاکہ، 02 جون (ہ س)۔ ملک میں باگیرہاٹ کی تاریخی خان جہاں (ر) درگاہ کے تالاب میں پوری رات ایک 7 سال کی بچی کی تلاش کی گئی۔ اس بچی کو نہاتے وقت مگرمچھ کھینچ کر لے گیا ہے۔ یہ واقعہ تالاب کے خواتین کے گھاٹ پر پیر کی رات تقریباً 8.30 بجے پیش آیا۔ اس کے فوراً بعد، فائر فائٹرز اور مقامی لوگوں نے مل کر بچاو مہم شروع کی۔ دارالحکومت ڈھاکہ سے باگیرہاٹ کا فاصلہ سڑک کے راستے سے تقریباً 225 کلومیٹر ہے۔ فی الحال بچی کا کوئی پتہ نہیں ہے۔

بنگلہ اخبار ’’پروتھوم الو‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، مزار کے اہم خادم فقیر طارق الاسلام نے بتایا کہ بچی کا نام فاطمہ ہے۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ مزار پر ہی رہتی تھی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ بچی تالاب میں نہانے گئی تھی۔ تالاب میں مگرمچھ اچانک اسے کھینچ کر لے گیا۔ باگیرہاٹ فائر سروس کے اسٹیشن افسر شیخ مامون الرشید نے بتایا کہ رات 10.30 بجے تک بھی بچی نہیں مل سکی اور بچاو کام جاری ہے۔

خادم نے بتایا کہ متاثرہ بچی کی ماں معذور ہے۔ دونوں درگاہ کے پاس طویل عرصے سے رہ رہی ہیں۔ باگیرہاٹ-2 کے رکن پارلیمنٹ شیخ منظور الحق (رہاد)، ضلع ڈپٹی کمشنر غلام محمد باطن اور پولیس سپرنٹنڈنٹ حسن محمد ناصر رکابدار نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ ایک عینی شاہد خاتون نے بتایا، ’’ہم گھاٹ کے اوپر تھے۔ لڑکی خواتین کے گھاٹ پر نیچے گئی۔ تبھی اچانک مگرمچھ نے اس کے پاوں کو اپنے منہ میں دبا لیا اور پانی کی گہرائی کی طرف کھینچ لے گیا۔ بچی کی چیخ سن کر آس پاس کے لوگ گھاٹ کی طرف دوڑے۔ کچھ لوگ بچی کو بچانے کے لیے کشتی لے کر تالاب میں گئے، لیکن کوئی پتہ نہیں چلا۔‘‘

فائر سروس اور سول ڈیفنس کے باگیرہاٹ کے اسٹیشن افسر شیخ مامون الرشید نے صحافیوں سے کہا کہ مگرمچھ وحشی ہوتے ہیں، اس لیے بچاو کاروں کا پانی میں نیچے جانا خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا۔ رات کا وقت ہے، پھر بھی ہم اب بھی بچی کی تلاش کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے اپریل میں اسی تالاب میں مگرمچھ کے کتے کو گھسیٹنے کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ اس وقت علاقے کے تالاب میں مگرمچھ رکھنے پر سوال اٹھے تھے۔ اس تالاب میں مگرمچھ پالنے کی ایک لمبی روایت ہے۔ لیکن اس تالاب میں ابھی جو مادہ مگرمچھ ہے، وہ خان جہاں کے زمانے کے مگرمچھ کی نسل سے نہیں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ حضرت خان جہاں علی نے اس تالاب کو تعمیر کروایا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے مگرمچھوں کا ایک جوڑا چھوڑا۔ بعد میں انہوں نے نر مگرمچھ کا نام کالا پہاڑ اور مادہ مگرمچھ کا نام دھالا پہاڑ رکھا۔ اس کے بعد ان کی نسلوں نے بھی اس روایت پر عمل کیا۔ ان کے آخری کڑی کی موت فروری 2015 میں ہو چکی ہے۔ 2005 میں ہندوستان سے کچھ مگرمچھ لا کر اس تالاب میں چھوڑے گئے تھے۔ ان میں سے کچھ مر گئے۔ آخری دو میں سے ایک مگرمچھ کی موت اکتوبر 2023 میں ہو گئی تھی۔ تب سے تالاب میں صرف ایک مادہ مگرمچھ ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande