
ماسکو، 19 جون (ہ س)۔ یورپی یونین (ای یو) کے رہنما روس کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے قیام کے معاملے پر الگ ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اسے کوئی جلدی نہیں ہے۔امریکی اور یورپی سیاست کا احاطہ کرنے والے اخبار پولیٹیکونے جمعے کے روز سفارتی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ روس کے ساتھ مذاکرات کے معاملے نے یورپی یونین کے رہنماو¿ں کو دو کیمپوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ یورپی یونین کے رہنماو¿ں کے ساتھ روس کے ساتھ مذاکرات کی تیاریوں پر بات کر رہے ہیں، ان کا خیال ہے کہ وقت درست ہے۔
پولیٹیکو نے بدھ کے روز یورپی یونین کے ایک اہلکار کے حوالے سے اطلاع دی کہ یورپی یونین نے حالیہ ہفتوں میں روسی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔ اہلکار نے کہا کہ یہ رابطے مختصر تھے اور انہوں نے’ بنیادی مسائل‘کو حل نہیں کیا لیکن ظاہر کیا کہ بلاک کے مفادات ہیں جن کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔یورپی یونین کا سربراہی اجلاس 18-19 جون کو برسلز میں ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کی شام رہنماو¿ں نے معاونین اور موبائل فون کے بغیر مذاکرات کے انعقاد کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اس طرح کے طریقہ کار کی مخالفت کی۔ اخبار کے مطابق ان کا ماننا ہے کہ روس کے ساتھ بات چیت کا یہ مناسب وقت نہیں ہے اور جب ایسا وقت آئے تو پہل ای 3 فرانس، جرمنی اور برطانیہ کو کرنی چاہیے۔
دریں اثنا، ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ دیگر رہنماو¿ں کی ایک ’بڑی تعداد‘ نے کوسٹا کی حمایت کرتے ہوئے مخالف موقف اختیار کیا۔منگل کو، پولیٹیکو نے رپورٹ کیا کہ یورپی یونین کے حکام امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ماسکو کے ایک اور دورے سے محتاط ہیں، کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکام یوکرین پر روس کے ساتھ یورپی یونین کی شمولیت کے بغیر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔دریں اثناءروسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ روس یورپ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اسے کوئی جلدی نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan