
واشنگٹن،19جون(ہ س)۔امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے کانگریس کے اراکین کو آگاہ کیا ہے کہ اسے ایران کے ساتھ جنگ کے اخراجات اور دیگر فوجی و عملیاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے 80 ارب ڈالر کی اضافی رقم درکار ہے۔امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق نائب وزیر دفاع اسٹیفن فائنبرگ نے گذشتہ چند دنوں کے دوران متعدد قانون سازوں سے رابطے کیے ہیں تاکہ وزارت کی ہنگامی مالی ضروریات کی وضاحت کی جا سکے، کیونکہ ایران کے خلاف مہینوں طویل کارروائیوں کے بعد فوجی بجٹ پر دباو¿ بڑھ رہا ہے۔
یہ نئی درخواست اس وقت سامنے آئی ہے جب پینٹاگان کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر کانگریس نے اخراجات کا اضافی پیکج منظور نہ کیا تو گرمیوں میں رقم کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مسلح افواج کو دستیاب وسائل برقرار رکھنے کے لیے مشقوں اور عملیاتی منصوبوں میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔پینٹاگان کے مئی کے تخمینوں کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کی لاگت تقریباً 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جو سابقہ تخمینوں کے 25 ارب ڈالر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کی وجہ فوجی کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی لاگت اور لڑائی میں استعمال ہونے والے آلات اور گولہ بارود کی مرمت اور تبدیلی ہے۔تاہم 80 ارب ڈالر کا نیا ہندسہ صرف ایران سے متعلقہ کارروائیوں کے لیے رقم تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں گذشتہ مہینوں کے دوران جمع ہونے والے دیگر فوجی اخراجات بھی شامل ہیں، جن میں سیکیورٹی آپریشنز اور مختلف علاقوں میں فوج کی تعیناتی شامل ہے۔پینٹاگان کو جنگ کے دوران جدید گولہ بارود کی بڑی مقدار استعمال کرنے کی وجہ سے بڑھتے ہوئے دباو¿ کا سامنا ہے۔ اس نے دنیا کے دیگر حصوں میں ممکنہ بحرانوں یا تنازعات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی تیاری پر اثرات کے حوالے سے قانون سازوں کی ایک بڑی تعداد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
واضح رہے کہ کسی بھی اضافی فنڈنگ کی درخواست کو کانگریس میں با ضابطہ طور پر پیش کرنے سے پہلے وائٹ ہاو¿س کے آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ کی منظوری درکار ہو گی۔ تاہم اس کی منظوری سخت بحث کا سامنا کر سکتی ہے، خاص طور پر جنگ کی لاگت، اس کے اہداف اور اس کے بعض پہلوو¿ں کی قانونی حیثیت پر سیاسی تنازع کے تناظر میں۔امریکی انتظامیہ نے اس سے قبل تنازع کے آغاز میں پیش کردہ اعلیٰ سطحوں سے جنگی فنڈنگ کے تخمینوں میں کمی کی تھی، جس کا مقصد فوجی کارروائیوں کی ضروریات اور حکومتی اخراجات پر بڑھتے ہوئے دباو¿ کے درمیان توازن قائم کرنا تھا۔یہ نئی درخواست ان مالی بوجھ کے حجم کی عکاسی کرتی ہے جو جنگ نے چھوڑے ہیں۔ ایسے وقت میں جب واشنگٹن دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ مفاہمتوں پر عمل درآمد شروع ہونے کے ساتھ ساتھ تہران کے ساتھ عسکری محاذ آرائی سے مذاکراتی راستے پر منتقل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan