
تہران،19جون(ہ س)۔ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ دستخط شدہ مفاہمت کی یاد داشت کے نکات اور شرائط پر عمل درآمد کے لیے تہران کے عزم کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ساتھ ہی اس بات پر زور دیا ہے کہ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی یا اضافی مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔
قالیباف نے کہا کہ وہ مشن جو انہیں ایرانی رہبر (مجتبی خامنہ ای) نے تفویض کیا ہے، وہ ’امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت کے نکات اور شرائط پر عمل درآمد کے لیے کوشش کرنا‘ ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اس معاہدے کو ایک ایسے فریم ورک کے طور پر دیکھتا ہے جس کا تمام فریقوں کو احترام کرنا چاہیے۔ یہ بات روئٹرز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتائی ہے۔اسپیکر پارلیمان نے مزید کہا کہ ’اگر دوسرا فریق اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کرے تو ان کا ملک جواب دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ انھوں نے خبردار کیا کہ طے شدہ امور کو تبدیل کرنے یا مفاہمت کی یاد داشت کے متن سے تجاوز کر کے شرائط مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے۔
قالیباف نے واضح کیا کہ ایران اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد جاری رکھے گا جب تک کہ دوسرا فریق اپنے وعدوں کا پاس کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی کامیابی اس کے نکات کے احترام اور نفاذ اور تکنیکی مذاکرات کے مرحلے کے دوران نئے حقائق مسلط کرنے کی کوشش نہ کرنے پر منحصر ہے۔چیف مذاکرات کار نے اشارہ کیا کہ سفارت کاری ایرانی مفادات کے دفاع کے ذرائع میں سے ایک ہے، لیکن اس کا مطلب اسلامی جمہوریہ کے پاس موجود طاقت اور دفاعی عناصر کو ترک کرنا نہیں ہے۔
ایرانی رہبر کو بھیجے گئے ایک پیغام میں پارلیمان کے اسپیکر نے اگلے مرحلے کے لیے طے شدہ ہدایات کے ساتھ ایرانی اداروں کے عزم کی تصدیق کی... اور کہا کہ یہ امریکہ کے ساتھ معاہدے اور مذاکرات کے راستے کو منظم کرنے کی بنیاد ہے۔قالیباف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنے یا خطے میں اپنے اتحادیوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات حقوق کے حصول کا راستہ ہیں نہ کہ انہیں چھوڑنے کا راستہ۔
قالیباف نے کہا کہ مفاہمت کی یاد داشت پر عمل درآمد کی حقیقی ضمانت صرف تحریری نکات میں نہیں، بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ اور کسی بھی زیادتی کا جواب دینے کی ایران کی صلاحیت میں مضمر ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر دوسرے فریق نے اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے یا معاہدے کے دائرہ کار سے باہر اضافی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی تو ’انگلیاں ٹرگر پر رہیں گی‘۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن مفاہمت کی یاد داشت پر عمل درآمد کے لیے تکنیکی مذاکرات کے مرحلے کو شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان باہمی احتیاط اور عدم اعتماد کی فضا برقرار ہے۔قالیباف کا بیان سفارتی راستے پر کاربند رہنے اور اندرون ملک سخت گیر دھڑے کو یہ یقین دلانے کی ایرانی کوشش کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اگلے مرحلے کے دوران معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی یا کسی اضافی دباو¿ کا جواب دینے میں نرمی نہیں دکھائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan