جے ڈی وینس کا اسرائیل کو مشورہ: طاقت ہر سیکورٹی مسئلے کا حل نہیں
واشنگٹن، 19 جون (ہ س)۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو مغربی ایشیا میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان 108 روزہ جنگ کے بعد، امریکہ-ایران جوہری معاہدے کے مذاکرات پر اسرائیل کی تنقید کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے قومی
جے ڈی وینس کا اسرائیل کو مشورہ: طاقت ہر سیکورٹی مسئلے کا حل نہیں


واشنگٹن، 19 جون (ہ س)۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو مغربی ایشیا میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان 108 روزہ جنگ کے بعد، امریکہ-ایران جوہری معاہدے کے مذاکرات پر اسرائیل کی تنقید کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے قومی سلامتی کا ہر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

ترکی کی سرکاری ایجنسی انادولو کے مطابق ایک انٹرویو میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ معاہدے کے حوالے سے اسرائیل میں جو بے چینی اور مخالفت دیکھی جا رہی ہے وہ بڑی حد تک بداعتمادی اور غلط فہمی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے طویل عرصے سے خود کو اسرائیل کا قابل اعتماد شراکت دار ثابت کیا ہے اور یہ خیال کہ واشنگٹن نے برا معاہدہ کیا ہے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل کا سیاسی نظام اور عوام کا ایک بڑا طبقہ معاہدے کے حوالے سے انتہائی حساس ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اعتمار بین گویر اور وزیر خزانہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر تنقید کرنے والے رہنماو¿ں کو اپنے متبادل حل کی بھی وضاحت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آپ 90 لاکھ لوگوں کا ملک ہیں، آپ صرف لوگوں کو مارنے یا طاقت کے استعمال سے قومی سلامتی کا ہر مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔

امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے خطے اور دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول اس عمل نے ایران کے جوہری پروگرام کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے اور تہران کو ایسی رعایتیں دینے کی پوزیشن میں ڈال دیا ہے جو چند ماہ قبل ناممکن نظر آتی تھیں۔

وینس نے کہا کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایران اپنے وعدوں کو کتنا پورا کرتا ہے تاہم مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس سفارتی کوشش کے لیے کریڈٹ کا مستحق ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے اسرائیل کا مضبوط اتحادی رہا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان تناو¿ بڑھ رہا ہے اور علاقائی سلامتی کے بارے میں جاری بین الاقوامی خدشات ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande