امریکہ-ایران معاہدے پر ٹرمپ اور پیزشکیان نے دستخط کیے
پیرس، 18 جون (ہ س)۔ مشرقِ وسطیٰ (مغربی ایشیا) میں کشیدگی کم کرنے کی سمت میں اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کے مسودے پر ابتدائی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ مسودے میں فوجی سرگرمیوں کو روکنے، سمندری راستوں کی س
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ورسائے پیلس میں ایران-امریکہ معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے۔ فوٹو وائٹ ہاوس کے ایکس ہینڈل سے


پیرس، 18 جون (ہ س)۔ مشرقِ وسطیٰ (مغربی ایشیا) میں کشیدگی کم کرنے کی سمت میں اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کے مسودے پر ابتدائی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ مسودے میں فوجی سرگرمیوں کو روکنے، سمندری راستوں کی سیکورٹی یقینی بنانے، اقتصادی پابندیوں میں راحت، ایران کی تعمیرِ نو میں تعاون اور جوہری پروگرام پر نگرانی جیسے کئی اہم دفعات شامل ہیں۔ امریکہ کے ایک سینئر افسر کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بدھ کی شام فرانس کے ورسائے پیلس میں منعقدہ ایک عشائیہ کے دوران امریکہ-ایران معاہدے کے مسودے پر باضابطہ طور پر دستخط کیے۔

وائٹ ہاوس اور فاکس نیوز نے اپنے ایکس ہینڈل پر سب سے پہلے اس کی تصدیق کی۔ اس کے بعد یہ خبر دنیا میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ ایران کے پریس ٹی وی، گلف نیوز، الجزیرہ، سی این این، ٹائم میگزین اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو کھولنے، پابندیوں میں راحت، جوہری پروگرام پر بات چیت اور 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کی سمت میں اقدامات شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹرمپ اور ایران کے صدر نے پیرس میں فرانس کے صدر امینوئل میکرون سے ملاقات کے دوران اس دستاویز پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ بھی ہو گیا ہے۔

امریکہ نے اس دستاویز کو ’’ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمت نامہ (ایم او یو)‘‘ کے طور پر جاری کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے جڑے مسائل کا حل تلاش کرنا اور پابندیوں میں مرحلہ وار راحت دینے کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دے کر دونوں فریقین نے اس پر دستخط کر دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس موضوع پر عمان اور دیگر ممالک کے ساتھ کافی وقت سے صلاح و مشورہ چل رہا تھا، ساتھ ہی آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق زیادہ تر مسائل پر اتفاق ہوگیا تھا۔ بقائی نے کہا کہ اب سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے گا۔ آبنائے ہرمز پر اسلامی جمہوریہ ایران کی خود مختاری اور حقوق محفوظ رہیں گے۔

مسودے کے 14 نکات:

1- ہر طرح کے تنازعات رکیں گے: امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ممالک نے فوری طور پر تمام فوجی مہمات کو ختم کرنے اور مستقبل میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہیں کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس میں لبنان سے جڑے تنازعات بھی شامل ہیں۔ لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے گا۔

2- ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام: دونوں ممالک ایک دوسرے کی آزادی، علاقائی سالمیت اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنے کی پالیسی اپنائیں گے۔

3- 60 دنوں میں حتمی معاہدے کا ہدف۔

4- امریکی بحری ناکہ بندی ہٹے گی: اس میں یہ شرط ہے کہ ایم او یو پر دستخط ہوتے ہی امریکہ ایران کے خلاف نافذ بحری ناکہ بندی اور دیگر رکاوٹوں کو ہٹانے کا عمل شروع کرے گا۔ 30 دن کے اندر اسے پوری طرح ختم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

5- آبنائے ہرمز: ایران 60 دن تک خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کو مفت اور محفوظ راستہ فراہم کرے گا۔ تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں کو ہٹانے نیز سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی کے بعد 30 دن میں آمد و رفت کو معمول کی سطح پر پہنچانے کا منصوبہ ہے۔

6- ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کا اقتصادی منصوبہ۔

7- پابندیاں ہٹانے کا روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔

8- ایران نے اعادہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ دونوں ممالک افزودہ جوہری مواد کو ٹھکانے لگانے، یورینیم کی افزودگی اور دیگر جوہری ضروریات پر حتمی معاہدے کے تحت تفصیلی گفتگو کریں گے۔

9- بات چیت کے دوران جوں کی توں صورتِ حال (اسٹیٹس کو) برقرار رہے گی۔

10- تیل کی برآمدات کو فوری راحت: ایم او یو نافذ ہوتے ہی امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ان سے جڑی بینکنگ، انشورنس نیز ٹرانسپورٹ خدمات کے لیے خصوصی چھوٹ جاری کرے گا۔

11- امریکہ ایران کے منجمد یا ممنوعہ اثاثوں اور فنڈز کو استعمال کے لیے دستیاب کرانے پر متفق ہے۔

12- نگرانی کا نظام: معاہدے پر موثر عمل آوری اور مستقبل میں اس کی تعمیل یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی ایگزیکٹو میکانزم قائم کیا جائے گا۔

13- حتمی معاہدے پر باضابطہ بات چیت شروع ہوگی۔

14- حتمی معاہدے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند کرنے والی قرارداد کے ذریعے قانونی حیثیت فراہم کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande