جی 7 میں وزیر اعظم مودی کا اے آئی کے استعمال پر زور
ایوین، 18 جون (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-7 سربراہی کانفرنس کے دوران ’محفوظ، تیز رفتار اور موثر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے رول آوٹ کو یقینی بنانا‘ کے عنوان پر منعقدہ سیشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی آج عالمی برادری کے لیے بے
پی ایم مودی نے جی 7 چوٹی کانفرنس میں مصنوعی ذہانت اور توانائی، افریقہ اور بحیرہ روم پر ایک آوٹ ریچ سیشن میں حصہ لیا۔


ایوین، 18 جون (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-7 سربراہی کانفرنس کے دوران ’محفوظ، تیز رفتار اور موثر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے رول آوٹ کو یقینی بنانا‘ کے عنوان پر منعقدہ سیشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی آج عالمی برادری کے لیے بے حد اہم موضوع بن چکا ہے، کیونکہ اس کی تبدیلی لانے والی صلاحیت نے انسانی زندگی کے تقریباً تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے آئی کا اصل امتحان اس کی تکنیکی طاقت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ عام شہریوں کو کتنا بااختیار بنا پاتا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی کا استعمال انسان دوست ہونا چاہیے اور اس کا فائدہ معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا واضح ماننا ہے کہ سائبر اسپیس کو عالمی عوامی مفاد کو فروغ دینے والا ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی، اے آئی تکنیک تک وسیع اور ہمہ گیر رسائی ضروری ہے، تاکہ تمام جمہوری ممالک اپنے اہم معلوماتی انفراسٹرکچر کی حفاظت کر سکیں اور بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا موثر طریقے سے مقابلہ کر سکیں۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کئی اہم مشورے بھی پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی سسٹم کو ’’سیف- بائی- ڈیزائن‘‘ اصول پر تیار کیا جانا چاہیے، تاکہ تکنیک کی سطح پر ہی سیکورٹی یقینی ہو سکے۔

انہوں نے یہ صلاح بھی دی کہ اے آئی کے لیے مشترکہ معیارات، ٹیسٹنگ فریم ورک اور ریگولیٹری سینڈ باکس تیار کیے جانے چاہئیں، جس سے اختراع (انوویشن) اور ضابطہ کاری (ریگولیشن) دونوں ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

پی ایم مودی نے ڈیپ فیک، غلط معلومات اور سائبر دھوکہ دہی جیسے چیلنجوں کے خلاف عالمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ اے آئی کا فائدہ صرف کچھ ممالک تک محدود نہ رہے، بلکہ عالمی سطح پر تمام ممالک تک بھی پہنچے، تاکہ یہ تکنیک ہمہ گیر ترقی کا ذریعہ بن سکے، نہ کہ تقسیم کی وجہ۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر اے آئی کو ذمہ داری اور تعاون کے ساتھ تیار کیا جائے، تو یہ انسانیت کے لیے ایک بے حد طاقتور اور مثبت تبدیلی لانے والا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande