
ہندوستانی تاریخ میں 15 جون کی تاریخ ان دنوں میں شامل ہے، جنہیں ملک کے سب سے تکلیف دہ واقعات کے پس منظر میں یاد کیا جاتا ہے۔ سال 1947 میں اسی وقت ہندوستان کی تقسیم کا عمل فیصلہ کن مرحلے میں پہنچا تھا اور 15-14 جون کو نئی دہلی میں منعقدہ کانگریس کے خصوصی اجلاس میں ملک کی تقسیم سے متعلق تجویز کو منظوری دی گئی تھی۔
ہندوستان کی تقسیم محض جغرافیائی حدود کی از سر نو تشکیل نہیں تھی، بلکہ یہ کروڑوں لوگوں کی زندگیوں، خاندانوں، رشتوں اور جذبات کو متاثر کرنے والا ایک بڑا المیہ ثابت ہوئی۔ صدیوں سے ساتھ رہنے والی برادریاں اچانک نئی سرحدوں کے دونوں طرف بٹ گئیں۔ لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے، جبکہ فرقہ وارانہ تشدد میں بے شمار لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔
1947 میں برطانوی حکومت سے آزادی کے حصول کے عمل کے ساتھ ہی ہندوستان اور پاکستان کی شکل میں دو علیحدہ ملک وجود میں آئے۔ حالانکہ آزادی کا خواب پورا ہوا، لیکن اس کے ساتھ تقسیم کا ایسا درد بھی جڑا جس نے لاکھوں خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ نقل مکانی، تشدد اور سماجی تناو کے واقعات نے برصغیر کی تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا۔
مورخین کے مطابق، تقسیم کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والی ہجرت اور فرقہ وارانہ فسادات انسانی تاریخ کے سب سے بڑے انسانی المیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ بہت سے خاندان بکھر گئے، رشتے ٹوٹ گئے اور لوگ اپنی جائے پیدائش چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
15 جون 1947 کی اہمیت اس لیے بھی خاص مانی جاتی ہے کیونکہ اسی وقت کانگریس کی قیادت نے تقسیم کے منصوبے کو قبول کر کے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد واقعات تیزی سے آگے بڑھے اور 15 اگست 1947 کو ہندوستان اور پاکستان آزاد ممالک کے طور پر وجود میں آئے۔
آج بھی تقسیم کی یادیں ان لاکھوں لوگوں کی جدوجہد، درد اور نقل مکانی کی کہانی سناتی ہیں، جنہوں نے تاریخ کے اس مشکل دور کو براہِ راست جھیلا تھا۔ 15 جون کی یہ تاریخ آزادی کی تاریخ کے ساتھ ساتھ تقسیم کے دردناک باب کی بھی یاد دلاتی ہے۔
دیگر اہم واقعات:
1896 - جاپان کی تاریخ کے سب سے تباہ کن زلزلے اور اس کے بعد آنے والے سونامی نے 22,000 لوگوں کی جان لے لی۔
1908 - کلکتہ شیئر بازار کا آغاز ہوا۔
1917 - ہندوستانی ہندی سنیما کے مشہور موسیقار سجاد حسین کی پیدائش۔
1929 - مشہور اداکارہ اور گلوکارہ ثریا کی پیدائش۔
1932 - ہندوستان کے مشہور دھروپد گلوکار ضیا فرید الدین ڈاگر کی پیدائش۔
1937 - گاندھی وادی نظریات پر چلنے والے ایک سماجی کارکن انا ہزارے کی پیدائش۔
1954 - یورپ کی فٹ بال تنظیم یو ای ایف اے (یونین آف یورپی فٹ بال ایسوسی ایشن) کی تشکیل۔
1982 - فاک لینڈ میں ارجنٹائن کی افواج کا برطانوی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنا۔
1988 - ناسا نے اسپیس وہیکل ایس-213 لانچ کیا۔
1994 - اسرائیل اور ویٹیکن سٹی میں سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔
1997 - آٹھ مسلم ممالک کی جانب سے استنبول میں ڈی-8 نامی تنظیم کی تشکیل۔
1999 - لاکربی پین ایم طیارہ حادثے کے لیے لیبیا پر مقدمہ چلائے جانے کی امریکی اجازت۔
2001 - شنگھائی-پنج سربراہی کانفرنس بیجنگ میں ختم، شنگھائی پانچ اب شنگھائی تعاون تنظیم بنا، ہندوستان اور پاکستان دونوں کو رکنیت نہیں دینے کا فیصلہ۔
2002 - کینیڈا کے ہیلی فیکس (نووا اسکوٹیا) میں جی-8 ممالک کے وزرائے مالیات کا اجلاس شروع۔
2005 - جمائیکا کے آصفہ پاول کا ایتھنز میں 8.77 سیکنڈ کا وقت لے کر 100 میٹر دوڑ میں نیا عالمی ریکارڈ۔
2006 - ہندوستان اور چین نے پرانا سلک روٹ کھولنے کا فیصلہ کیا۔
2008 - آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے پہلی بار الٹرا وائلٹ روشنی کا دھماکہ کر کے بڑے ستاروں کی آخری صورتِ حال دیکھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن