
واشنگٹن،13جون(ہ س)۔امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے ایرانی ڈرونز کو ’مار گرایا‘ ہے۔امریکی مرکزی کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعے کی شب ’ایکس‘ پر بیان جاری کیا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں یک طرفہ حملہ آور ڈرون لانچ کیے‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’بحری نقل و حرکت کے لیے بدستور کھلی ہے‘۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر مزید ڈرون لانچ کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔جمعے کے روز واشنگٹن اور تہران کے درمیان کچھ متضاد پیغامات کے باوجود، ایسا لگتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا عمل اپنے انتہائی حساس مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے کیونکہ جنگ کے خاتمے کے قریب ہونے کی نشان دہی کرنے والی تقریباً مکمل مفاہمت کے بارے میں چہ مگوئیاں بڑھ رہی ہیں۔اس سیاق و سباق میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے حتمی متفقہ متن تک پہنچنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا ملک اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔اگرچہ یہ پیش رفت مذاکراتی عمل میں آگے بڑھنے کے اشاروں کو تقویت دیتی ہے، لیکن واشنگٹن اور تہران کے موقف میں معاہدے کی تفصیلات پر اب بھی واضح اختلاف نظر آتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کے خدوخال کے بارے میں افشا ہونے والی اطلاعات کے جواب میں اپنے لہجے کو سخت کرتے ہوئے کہا کہ جو شقیں افشا ہوئی ہیں، ان کا تحریری طور پر طے پانے والے معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خوش خبری سنائی کہ واشنگٹن کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت تک پہنچنا پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ عراقچی نے اشارہ کیا کہ ناکہ بندی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، اس عبوری معاہدے کا حصہ ہے جس کی اسرائیل مخالفت کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan