وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اے ایف اے میں 217 ویں مشترکہ پاسنگ آو¿ٹ پریڈ کا معائنہ کیا، کہا – جدید جنگ کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار کریں
نئی دہلی،13جون(ہ س)۔ 13 جون 2026 کو ایئر فورس اکیڈمی (اے ایف اے)، ڈنڈیگل، حیدرآباد سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد مجموعی طور پر 231 فلائٹ کیڈٹس کو (194 مرد اور 37 خواتین)، جن میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) سے خواتین کے پہلے بیچ کی کیڈٹس بھی شامل
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اے ایف اے میں 217 ویں مشترکہ پاسنگ آو¿ٹ پریڈ کا معائنہ کیا، کہا – جدید جنگ کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار کریں


نئی دہلی،13جون(ہ س)۔ 13 جون 2026 کو ایئر فورس اکیڈمی (اے ایف اے)، ڈنڈیگل، حیدرآباد سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد مجموعی طور پر 231 فلائٹ کیڈٹس کو (194 مرد اور 37 خواتین)، جن میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) سے خواتین کے پہلے بیچ کی کیڈٹس بھی شامل تھیں، بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) میں افسران کے طور پر کمیشن کیا گیا۔ وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 217ویں کورس کی مشترکہ گریجویشن پریڈ کا جائزہ لیا اور فارغ التحصیل کیڈٹس کو ’پریزیڈنٹ کمیشن‘ عطا کیا، جو بھارتی فضائیہ کی فلائنگ اور گراو¿نڈ ڈیوٹی شاخوں کے لیے کیڈٹس کی پری کمیشننگ تربیت کی تکمیل کی علامت ہے۔اس موقع پر بھارتی بحریہ کے 09 افسران، بھارتی کوسٹ گارڈ کے 03 افسران اور سوشلسٹ ریپبلک آف ویتنام کے 02 افسران کو ’ونگز‘ سے نوازا گیا۔ نیویگیشن تربیت مکمل کرنے پر 03 افسران کو ’بریویٹس‘ بھی عطا کیے گئے۔

فارغ التحصیل کیڈٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ وہ ایسی فورس میں شامل ہو رہے ہیں جس نے ہمیشہ قوم کے لیے ڈھال اور تلوار دونوں کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آئی اے ایف نے 1947-48 کی کشمیر جنگ میں سری نگر ایئر لفٹ کے ذریعے جنگ کا رخ بدل دیا تھا، جبکہ 1971 کی جنگ میں صرف 13 دنوں کے اندر فیصلہ کن فضائی حملوں کے ذریعے تاریخ رقم کی۔ ان کی ناقابل تسخیر ہمت اور بے مثال بہادری کا مظاہرہ 2025 کے آپریشن سندور کے دوران بھی دیکھنے کو ملا، جب انہوں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو انتہائی درستگی اور وضاحت کے ساتھ تباہ کیا۔ یہ آپریشن نہ صرف ہماری مقامی طور پر تیار کردہ پلیٹ فارموں کی بدولت کامیاب ہوا بلکہ آئی اے ایف کے تربیت یافتہ، بہادر اور نظم و ضبط کے پابند افسران کی وجہ سے بھی ممکن ہو سکا۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل کی کارروائیوں میں بھی یہ فورس اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔“

راج ناتھ سنگھ نے افسران سے زور دے کر کہا کہ وہ ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے حوالے سے ہمیشہ چوکس رہیں اور حالات کے مطابق اپنے ردعمل کو ازسر نو ترتیب دیں۔ انہوں نے کہا، ”روایتی طور پر جنگ دو عناصر پر مشتمل ہوتی ہے: سپاہی اور اس کا اسلحہ۔ تاہم جدید جنگ میں نہ تو اکثر دشمن نظر آتا ہے اور نہ ہی استعمال ہونے والا ہتھیار۔ ریڈار، سیٹلائٹس، ڈرون، سینسر اور روبوٹکس جیسے نظام یہ ممکن نہیں رہنے دیتے کہ جنگجو یا اس کی مشینری کو آسانی سے پہچانا جا سکے۔ ایسے حالات بھی سامنے آتے ہیں جہاں دشمن کے ٹریفک سسٹم اور حتیٰ کہ سی سی ٹی وی نیٹ ورک تک کو ہیک کرکے اپنے کنٹرول میں لیا جا رہا ہے۔ آپ کے تربیتی پروگرام اور مشقوں نے آپ کو غیر یقینی حالات اور غیر متوقع چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے اچھی طرح تیار کیا ہے۔ آپ کو ہر وقت مستعد رہنا ہوگا۔“

وزیر دفاع نے فارغ التحصیل کیڈٹس کو ہدایت دی کہ وہ مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجیوں اور حکمت عملیوں کو سمجھیں، ان کے مطابق خود کو ڈھالیں، انہیں اختیار کریں اور ضرورت پڑنے پر ان میں تبدیلی بھی لائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر محاذ پر اختراع، مو¿ثر عمل درآمد اور فیصلہ کن برتری حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ”ہر جنگ سیکھنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ آپ کو سخت محنت کے ساتھ اسمارٹ ورک اور ذہانت کو بھی یکجا کرنا ہوگا۔ موجودہ دور میں وہی قومیں ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر رہی ہیں جو ذہانت اور جدت کو اپناتی ہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ بڑی طاقتیں ہر میدان میں فیصلہ کن برتری رکھتی ہیں، لیکن آج نسبتاً چھوٹی طاقتیں بھی محدود مگر مہلک ہتھیاروں اور نئی حکمت عملیوں کے ذریعے بڑے پلیٹ فارموں کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہیں۔“

راج ناتھ سنگھ نے افسران سے کہا کہ وہ سیکھنے اور تربیت حاصل کرنے کا عمل کبھی نہ روکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے کندھوں پر موجود ’ونگز‘ محض ایک نشان نہیں بلکہ ہر بھارتی کے اعتماد کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جو ذمہ داری آپ سنبھالنے جا رہے ہیں، وہ اپنی نوعیت میں اتنی پیچیدہ ہے کہ آپ کو اکثر فیصلے منٹوں میں نہیں بلکہ چند سیکنڈ یا اس سے بھی کم وقت میں کرنے ہوں گے۔ آپ کو ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت اور طرز عمل کے ایسے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے چاہئیں جو دوسروں کے لیے بھی مثال بنیں۔“خواتین افسران کو خصوصی مبارکباد پیش کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ناری شکتی کی بڑھتی ہوئی موجودگی بھارتی فضائیہ کو مزید مضبوط، متوازن اور مو¿ثر بنائے گی۔ انہوں نے کہا، ”یہ ہماری جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی فورس کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔“ انہوں نے فارغ التحصیل ویتنامی کیڈٹس کو بھی ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کیں اور اعتماد ظاہر کیا کہ ان کی تربیت دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

راج ناتھ سنگھ نے ملک کے اندر اور بیرون ملک متعدد امدادی اور ریسکیو مشن کی کامیاب انجام دہی میں بھارتی فضائیہ کے کلیدی کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خدمات انسانیت کی مدد کے اس بھارتی تہذیبی جذبے کی عکاسی کرتی ہیں جو قومیت، زبان اور سرحدوں سے بالاتر ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا، ”اکثر کہا جاتا ہے کہ ’آسمان ہی حد ہے‘۔ یہ بات یقیناً بھارتی فضائیہ پر صادق آتی ہے، لیکن آپ کو ’آسمان ہمارا گھر ہے‘ کے وڑن کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ یہی وڑن ہمیں 2047 تک وکست بھارت بنانے میں مدد دے گا۔“

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande