
تہران،13جون(ہ س)۔
پاسدارانِ انقلاب سے قریبی تعلق رکھنے والی ایرانی خبر رساں ایجنسی 'فارس' نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کی یادداشت کے بارے میں ان کے حالیہ بیانات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانیے کی حمایت کی ہے۔
ایرانی ایجنسی کا ماننا ہے کہ عراقچی کا میڈیا کو معاہدے کے مواد پر قیاس آرائیاں کرنے سے گریز کرنے کی دعوت دینا اور کچھ امریکی دعوؤں کی براہِ راست تردید نہ کرنا... واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے حوالے سے ایران کے اندر پائے جانے والے موقف کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
اس سے قبل عباس عراقچی نے ایرانی میڈیا سے اپیل کی تھی کہ وہ مفاہمت کی یاد داشت کو حتمی شکل دیے جانے تک اس کے مواد کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔ایرانی وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ ان کا ملک مناسب وقت پر معاہدے کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائے گا اور اس معاملے میں تہران کے ذمے دارانہ اور شفاف رویے کا حوالہ دیا۔عراقچی نے کہا کہ تہران نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط نہیں کیے ہیں اور اس میں تبدیلیاں ممکن ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران عراقچی نے کہا کہ اگر عبوری معاہدے پر عمل درآمد ہو گیا تو جوہری معاملے پر بعد کے مرحلے میں بات چیت کی جائے گی۔عراقچی نے مزید کہا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ عبوری معاہدے کا حصہ ہو گا، اس کے ساتھ ساتھ ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔جوہری معاملے کے حوالے سے عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ انتہائی افزودہ یورینیم سے نمٹنے کا واحد طریقہ اسے ایران کے اندر ہی کم افزودہ کرنا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو’ایکس‘ پلیٹ فارم پر عراقچی کی ایک پوسٹ دوبارہ شیئر کی، جس میں انہوں نے تصدیق کی تھی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت تک پہنچنا پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan