
لاتور، 13 جون (ہ س)۔ لندن میں آئی ٹی انجینئر کے طور پر خدمات انجام دینے والے اور ماہانہ تقریباً آٹھ لاکھ روپے تنخواہ حاصل کرنے والے احمدپور تعلقہ کے بڈکا گاؤں کے رہائشی ہنمنت اپپاراؤ پاٹل (40 سال) نے خودکشی کر لی۔ بتایا جاتا ہے کہ خاندانی تنازعے کے دوران اہلیہ کی جانب سے دو کروڑ روپے کے دعوے کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کے باعث انہوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ یہ واقعہ آٹھ روز قبل لندن میں پیش آیا تھا، جبکہ ان کی میت آبائی گاؤں بڈکا پہنچنے کے بعد سوگوار ماحول میں آخری رسوم ادا کی گئیں۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ہنمنت پاٹل کی شادی آٹھ سال قبل ہوئی تھی، تاہم ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ گزشتہ ایک سال سے میاں بیوی کے درمیان اختلافات کے باعث دونوں الگ رہ رہے تھے۔ چند روز قبل اہلیہ نے ان کے خلاف دو کروڑ روپے کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس کے بعد وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ خودکشی سے قبل ہنمنت پاٹل نے اپنے رشتہ داروں کو فون کرکے ایک جذباتی پیغام دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا: ’’میں اب زندہ نہیں رہوں گا، میرا انتظار نہ کرنا، میں خودکشی کر رہا ہوں، سب کا خیال رکھنا۔‘‘اعلیٰ عہدے پر فائز اور بیرونِ ملک کامیاب پیشہ ورانہ زندگی گزارنے کے باوجود محض خاندانی تنازعے کے باعث ایک نوجوان انجینئر کے اس طرح زندگی ختم کر لینے پر علاقے میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ہنمنت پاٹل کی میت لندن سے ہوائی جہاز کے ذریعے پونے لائی گئی، جہاں سے اسے سڑک کے راستے ان کے آبائی گاؤں بڈکا منتقل کیا گیا۔ وفات کے آٹھ روز بعد جب میت گاؤں پہنچی تو جمعہ کے روز ہونے والی آخری رسوم کے دوران ہر آنکھ اشکبار تھی۔مقامی افراد کے مطابق ہنمنت پاٹل گاؤں کی سماجی اور مذہبی سرگرمیوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ ان کا مزاج انتہائی خوش اخلاق تھا اور گاؤں کے ہر فرد کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات تھے۔ اسی وجہ سے ان کی اچانک موت نے پورے بڈکا گاؤں کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے