
گوہاٹی، 13 جون (ہ س)۔ غیر قانونی تارکین وطن کو آدھار کارڈ حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک بڑے اقدام کے طور پر آسام کابینہ نے 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے باقاعدہ اندراج کے عمل کے ذریعے آدھار کارڈ جاری کرنا بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ کے اجلاس میں کئی اور اہم فیصلے لیے گئے۔
یہ فیصلہ سنیچر کو نئی حکومت کی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسام کے وزیر اعلی ڈاکٹر ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ ریاستی حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ کوئی بھی غیر قانونی تارکین وطن آدھار اندراج کے نظام سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
نئی پالیسی کے تحت 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو آدھار کارڈ جاری کیے جاتے رہیں گے۔ تاہم، 18 سال سے زیادہ عمر کے کسی بھی شخص کو آدھار کارڈ حاصل کرنے کے لیے ایک خصوصی تصدیق کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔ ایسی صورتوں میں متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو حکومت کو ایک تجویز بھیجنا ہوگی، جو کارڈ جاری کرنے پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
وزیر اعلی نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد آدھار اندراج کے عمل میں خامیوں اور کمیوں کو دور کرنا ہے، وہیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حقیقی ہندوستانی شہری دستاویز سے محروم نہ رہیں۔
کابینہ نے درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور چائے باغان برادری کے اراکین کے لیے بھی نرمی کی ہے، جومارچ 2027 تک آدھار اندراج کے اہل رہیں گے۔
ریاستی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ شناخت کی تصدیق کے نظام کو مضبوط کرنے اور غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کے ذریعے دھوکہ دہی سے آدھار کے حصول کو روکنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔ حکام نے کہا کہ اس کا مقصد اندراج کے عمل کو مزید مضبوط بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مناسب تصدیق کے بعد ہی آدھار کارڈ جاری کیا جائے۔
وزیر اعلی نے کہا کہ اگرچہ بالغوں کے لیے آدھار کا اندراج مکمل طور پر بند نہیں کیا جائے گا، لیکن موجودہ نظام کے ذریعے کوئی بھی کارڈ خود بخود جاری نہیں کیا جائے گا اور 18 سال سے زیادہ عمر کی ہر درخواست کو منظوری سے پہلے سخت جانچ پڑتال سے گزرنا ہوگا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی