سینٹکام نے آبنائے ہرمز سے 70 جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا:امریکی حکام
واشنگٹن،یکم جون(ہ س)۔امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی افواج نے حالیہ ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے درجنوں تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو مربوط بنانے میں مدد فراہم کی۔اتوار کو نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ام
سینٹکام نے آبنائے ہرمز سے 70 جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا:امریکی حکام


واشنگٹن،یکم جون(ہ س)۔امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی افواج نے حالیہ ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے درجنوں تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو مربوط بنانے میں مدد فراہم کی۔اتوار کو نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران تقریباً 70 تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے میں رہنمائی فراہم کی۔حکام کے مطابق زیادہ تر جہازوں نے دورانِ سفر اپنی ٹرانسمیٹر اور ریسیور (Transponder) سروسز بند رکھیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔تاہم امریکی عہدیداروں نے جہازوں کی نوعیت اور ان کے استعمال کردہ راستوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔البتہ ایک عہدیدار نے اشارہ دیا کہ کم از کم ایک راستہ ایرانی ساحل کے قریب سے نہیں گزرتا تھا۔رپورٹ کے مطابق امریکی نگرانی میں جہازوں کی مسلسل آمدورفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض شپنگ کمپنیاں خطرات کے باوجود نسبتاً غیر نمایاں یا ’تاریک‘راستوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب امریکہ اور ایران ثالثوں کے ذریعے جاری مذاکرات میں مصروف ہیں، جن کا مقصد 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔امریکی حکام اور باخبر ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی فریق کو ایک نئی اور پہلے سے زیادہ سخت تجویز بھیجی ہے، جس کے باعث مذاکراتی عمل مزید طویل ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے، جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی ضمانت نہ دے۔انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ اگر کسی اتفاقِ رائے تک پہنچنے میں ناکامی ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا ،جب تک ایسا مناسب معاہدہ طے نہ پا جائے جو ٹرمپ کی مقرر کردہ سرخ لکیروں پر پورا اترتا ہو۔

یاد رہے کہ بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ، جو امریکی پابندیوں کے باعث روکے گئے ہیں، جاری مذاکرات کے اہم ترین نکات میں شامل ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔اسی طرح ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کا مسئلہ بھی جوہری مذاکرات کے پیچیدہ اور حساس موضوعات میں شامل ہے۔اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی فریقین کے درمیان اہم بحث کا حصہ بنا ہوا ہے۔مذاکرات کے ساتھ ساتھ تہران کو 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر جاری امریکی بحری محاصرے کے اثرات کا بھی سامنا ہے۔مزید برآں مقامی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مغربی پابندیوں کے برسوں پر محیط اثرات پہلے ہی ایرانی معیشت کو شدید دباو¿ میں رکھے ہوئے ہیں، جس سے اقتصادی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande