
دمشق،یکم جون(ہ س)۔شامی صدر احمد الشرع نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس کے دوران دونوں رہنماو¿ں نے دوطرفہ تعلقات، خطے کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور مشترکہ تعاون کے فروغ کے طریقوں پر تبادل? خیال کیا، تاکہ شام کے استحکام اور آئندہ مرحلے میں اقتصادی بحالی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔شامی ایوانِ صدر کے مطابق احمد الشرع نے تعمیرِ نو اور بحالی کے مرحلے میں شام کے لیے بین الاقوامی حمایت جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ باقی ماندہ پابندیوں کا خاتمہ شامی معیشت کی بحالی، اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی اور شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے ایک بنیادی قدم ہے۔
احمد الشرع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پابندیوں کے خاتمے سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور مختلف اہم شعبوں میں اقتصادی و ترقیاتی منصوبوں کی واپسی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوگا۔ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور علاقائی کشیدگی سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شامی ایوانِ صدر کے مطابق احمد الشرع نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستے اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے، تاکہ علاقائی امن و استحکام کو فروغ ملے اور خطہ مزید کشیدگی اور تصعید سے محفوظ رہ سکے۔اپنی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے استحکام برقرار رکھنے اور شام میں بحالی و تعمیرِ نو کے عمل کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔
گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماو¿ں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی رابطوں اور ہم آہنگی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ مشترکہ دلچسپی کے امور پر تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کے مفادات کا تحفظ ہو اور خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنایا جا سکے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شامی صدر احمد الشرع نے گزشتہ سال 10 نومبر کو وائٹ ہاو¿س میں ملاقات کی تھی، جہاں ٹرمپ نے اپنے شامی ہم منصب کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک انتہائی مضبوط شخصیت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ جنگ سے تباہ حال اپنے ملک کی دوبارہ تعمیر کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ ملاقات ایک تاریخی دورہ قرار دی گئی، کیونکہ 1946 میں شام کی آزادی کے بعد یہ کسی شامی صدر کا وائٹ ہاو¿س کا پہلا دورہ تھا۔اس سے قبل احمد الشرع گزشتہ ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر گئے تھے اور کئی دہائیوں بعد جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے پہلے شامی صدر بنے تھے۔8 دسمبر 2024 کو سابق شامی حکومت کے خاتمے اور صدر بشار الاسد کے ماسکو منتقل ہونے کے بعد اقتدار سنبھالنے والے احمد الشرع نے دمشق کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو ازسرِنو مضبوط بنانے اور مغربی دنیا، خصوصاً امریکہ کے ساتھ روابط بہتر کرنے پر توجہ دی۔اسی سلسلے میں احمد الشرع نے مئی 2025 میں ریاض میں ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلی ملاقات کی، جس کے بعد دونوں رہنما نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے موقع پر بھی ملے، جبکہ ان کی تازہ ترین ملاقات وائٹ ہاو¿س میں ہوئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan