آئی پی ایل 2026 ایم وی پی بننے کے بعد سوریہ ونشی نے کہا- – اس سال میں نے کھیل کو حالات کے مطابق ڈھالنا سیکھا
احمد آباد، یکم جون (ہ س)۔ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں اپنی شاندار کارکردگی کے بعد موسٹ ویلیو ایبل پلیئر (ایم وی پی) کا ایوارڈ جیتنے والے نوجوان بلے باز ویبھو سوریہ ونشی نے کہا کہ اس سیزن میں انہوں نے دباؤ میں بلے بازی کرنا اور میچ
Sports-Cricket-IPL2026-Sooryavanshi-MVPaward


احمد آباد، یکم جون (ہ س)۔ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں اپنی شاندار کارکردگی کے بعد موسٹ ویلیو ایبل پلیئر (ایم وی پی) کا ایوارڈ جیتنے والے نوجوان بلے باز ویبھو سوریہ ونشی نے کہا کہ اس سیزن میں انہوں نے دباؤ میں بلے بازی کرنا اور میچ کے حالات کے مطابق اپنے کھیل کو ڈھالنا سیکھا ہے۔

اتوار کی رات دیر گئے آر سی بی اور گجرات کے درمیان خطابی مقابلے کے بعد منعقدہ ایوارڈز کی تقریب میں ایوارڈ جیتنے کے بعد نشریاتی اداروں سے بات کرتے ہوئے ویبھو نے کہا،’’اس سیزن میں میں نے دباؤ میں بلے بازی کرنا سیکھا ہے، میں نے یہ بھی سیکھا ہے کہ حالات کے مطابق اپنے کھیل کو کیسے بدلاجائے۔ آپ ہر میچ میں ایک جیسی بلے بازی نہیں کر سکتے۔ آپ کو میچ کی صورتحال کو سمجھ کر اسی کے مطابق خاص طور پر بڑے آف میچوں میںکھیلنا ہوتا ہے ۔‘‘

محض 15 سال کی عمر میں، ویبھو نے آئی پی ایل 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 16 میچوں میں 776 رن بنائے۔ انہوں نے راجستھان رائلز کی کوالیفائر 2 مہم میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 48.50 کی اوسط اور 237.31 کے ناقابل یقین اسٹرائیک ریٹ سےرن بنائے۔ انہوں نے پانچ نصف سنچریاں اور ایک سنچری بھی بنائی۔

ویبھو نے اس سیزن میں انفرادی ایوارڈز پر بھی غلبہ حاصل کیا، جس میں ایمرجنگ پلیئر آف دی سیزن، سپر اسٹرائیکر آف دی سیزن، سپر سکسز آف دی سیزن ،اورنج کیپ اور ایم وی پی آف دی سیزن سمیت تمام بڑے اعزازات جیتے۔

سیزن کے بعد اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ویبھو نے کہا کہ اب وہ اپنی فٹنس پر توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی فٹنس پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ میں طویل عرصے تک کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں اور انجری سے پاک رہنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے راجستھان رائلز کی ٹیم مینجمنٹ اور سینئر کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’سب نے مجھے بہت سپورٹ کیا ہے۔ ٹیم انتظامیہ اور سینئر کھلاڑیوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی ہے۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے کیونکہ وہ سب نے اعلیٰ سطح پر کرکٹ کھیلی ہے۔ ان سے سیکھنے کا موقع میرے لیے بہت اہم رہا ہے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande