لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے واشنگٹن کی نئے منصوبے کی تجویز
ست
لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے واشنگٹن کی نئے منصوبے کی تجویز


واشنگٹن،یکم جون(ہ س)۔ایک امریکی عہدے دار نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کی اور ایک ایسی تجویز پیش کی ہے جو تدریجی کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔عہدے دار نے وضاحت کی کہ امریکہ نے پہلے قدم کے طور پر تجویز دی ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ ، اسرائیل پر تمام حملے روک دے اور اس کے جواب میں اسرائیل بیروت میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے۔ امریکی ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ یہ تدریجی طور پر کشیدگی میں کمی اور عملی طور پر جنگی کارروائیاں بند کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

مزید برآں عہدے دار نے کہا کہ عون نے اس تجویز پر پیش رفت کرنے کی کوشش کی، لیکن لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا کہ وہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی پاسداری کی ضمانت دیتے ہیں، تاہم انہوں نے اسرائیل پر’پہلے فائرنگ‘سے باز رہنے کی ذمہ داری عائد کی۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیل نے اتوار کے روز جنوبی لبنان میں تزویراتی قلعہ شقیف پر اپنے کنٹرول کا اعلان کیا، جہاں انہوں نے اپنا پرچم لہرایا، جبکہ اسرائیلی فوج نے دنوں قبل اپنی زمینی کارروائیوں کو وسیع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کی سہ پہر فرانس کی درخواست پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے تاکہ تاریخی قلعہ شقیف پر اسرائیلی فوج کے قبضے کے بعد لبنان میں جنگ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان 2 اور 3 جون کو واشنگٹن میں براہِ راست بات چیت کا نیا دور طے ہے، جو کہ دونوں کے درمیان چوتھا دور ہوگا۔ اس سے قبل جمعہ کو پینٹاگان میں دونوں فریقوں کے فوجی وفود کے درمیان بات چیت ہوئی تھی، جبکہ لبنان جنگ بندی کے مطالبے پر بضد ہے۔واضح رہے کہ تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ تنظیم اور اسرائیل کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے 17 اپریل کو با ضابطہ طور پر جنگ بندی کا نفاذ ہوا تھا، لیکن اس پر عملی طور پر عمل نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ اس تاریخ سے اب تک اس نے حزب اللہ تنظیم کے 900 ارکان کو ہلاک کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande