
تہران،یکم جون(ہ س)۔امریکہ کے اس موقف کے باوجود کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے کھولا جانا چاہیے، ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک نے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے انتظام کے حوالے سے عمان کے ساتھ پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویڑن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران اور سلطنتِ عمان کو آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے استعمال کا حق حاصل ہے۔
غریب آبادی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران نے جنگی حالات کے دوران اس آبنائے سے جہازوں کی آمدورفت کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے ضوابط وضع کیے ہیں اور وہ کسی بھی ملک کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ان کے مطابق ہر قسم کے انتظامات عمان کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی سے کیے جانے چاہئیں، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے نے رپورٹ کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں آبنائے ہرمز اور اس کے مستقبل کے انتظامی معاملات پر بات کی ہے، جو قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے طے کیے جائیں گے۔انہوں نے سلطنتِ عمان کے ''اصولی اور ذمہ دارانہ مو¿قف'' کو سراہا اور کہا کہ علاقائی امن و سلامتی سے متعلق معاملات، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے کردار پر عمان کا کردار تعمیری ہے۔
دوسری جانب امریکہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کی نیویگیشن یا انتظام میں کوئی اختیار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم بین الاقوامی راستہ ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
متعدد عرب اور یورپی ممالک نے بھی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے دعووں کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔دریں اثنا امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکراتی مسودے میں مزید سخت شرائط شامل کی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز میں مکمل اور غیر مشروط آزادیِ آمدورفت، جوہری پروگرام اور منجمد ایرانی اثاثوں جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔یاد رہے کہ فروری 2026 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی، جبکہ امریکہ نے جواب میں ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ برقرار رکھا ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan