
منامہ،یکم جون(ہ س)۔بحرین نے پاسدارانِ انقلاب ایران سے منسلک ایک تنظیم اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس پر ’ولایتِ فقیہ‘ کے نظریے سے وابستگی کا الزام ہے۔تحقیقات کے تحت زیرِ حراست افراد میں تحلیل شدہ ’علماکونسل‘ کے بعض ارکان بھی شامل ہیں۔پراسیکیوشن نے ملزمان کو احتیاطی طور پر حراست میں رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے بینک اکاو¿نٹس کی تفصیلات ظاہر کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔تحقیقات کے مطابق ملزمان پر ریاست کی سلامتی اور معاشرتی استحکام کو نقصان پہنچانے والے جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔ان میں مالی جرائم اور تنظیم کے لیے چندہ اکٹھا کرنا شامل ہے، جبکہ یہ رقوم ایران، عراق اور لبنان منتقل کی گئیں تاکہ مبینہ طور پر ''دہشت گرد تنظیموں'' کی معاونت کی جا سکے۔پراسیکیوشن نے بتایا ہے کہ تفتیش کے دوران ''ولایتِ فقیہ'' کے نظریے کی تبلیغ پر مشتمل مواد بھی برآمد ہوا ہے، جبکہ حکام نے ملزمان کے قبضے سے نقد رقوم بھی ضبط کر لی ہیں۔بحرینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بعض ملزمان نے جمع شدہ رقوم کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا، جن میں سونے کے زیورات، جائیدادیں اور گاڑیاں خریدنا شامل ہے، جبکہ اپنے بچوں کی تعلیمی فیسیں بھی انہی رقوم سے ادا کی گئیں۔دوسری جانب پراسیکیوشن نے اس تنظیم کے خلاف کارروائی جاری رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ گروہ پاسدارانِ انقلاب ایران سے منسلک ہے اور ’ولایتِ فقیہ ‘کے نظریے کی پیروی کرتا ہے۔اس پر الزام ہے کہ یہ تنظیم ملکی قوانین اور قومی نظام کے بجائے بیرونی وفاداری کو فروغ دیتی ہے۔مزید الزام کے مطابق یہ گروہ بحرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے سرگرم تھا، جس میں مساجد، امام بارگاہوں اور دینی مدارس پر اثر و رسوخ قائم کرنا اور ان پلیٹ فارمز کو سیاسی و نظریاتی تبلیغ کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔ساتھ ہی مبینہ طور پر اشتعال انگیز خطابات کے ذریعے ریاستی مفادات کے خلاف فضا پیدا کی گئی اور افراد کو اس تنظیم میں بھرتی کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض مذہبی شخصیات کو خوفزدہ کرنے، ان پر فکری دباو¿ ڈالنے اور انہیں دھمکانے کے لیے فتوے جاری کیے گئے، جبکہ بعض صورتوں میں تشدد کی دھمکیوں کا بھی ذکر سامنے آیا ہے۔مزید یہ کہ تنظیم نے مالی وسائل جمع کر کے انہیں اپنے نیٹ ورک کی سرگرمیوں، نظریے کی تبلیغ اور مبینہ تخریبی کارروائیوں میں استعمال کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan