ایل جی نے لیہہ میں 30 لداخی اسمارٹ بس شیلٹرز کی تعمیر کو منظوری دی
جموں, 07 مئی (ہ س)۔ لداخ میں عوامی ٹرانسپورٹ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر وی ہے سکسینہ نے لیہہ میں 30 لداخی اسمارٹ بس شیلٹرز کی تعمیر کو منظوری دے دی ہے۔ یہ منفر
ایل جی نے لیہہ میں 30 لداخی اسمارٹ بس شیلٹرز کی تعمیر کو منظوری دی


جموں, 07 مئی (ہ س)۔

لداخ میں عوامی ٹرانسپورٹ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر وی ہے سکسینہ نے لیہہ میں 30 لداخی اسمارٹ بس شیلٹرز کی تعمیر کو منظوری دے دی ہے۔ یہ منفرد بس شیلٹرز جدید سہولیات کے ساتھ لداخ کی روایتی ثقافتی طرزِ تعمیر کی عکاسی کریں گے۔حکام کے مطابق منصوبے پر سندھو انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کاپوریشن لیمٹیڈ عمل درآمد کرے گا۔ ان بس شیلٹرز کو لداخی گونپا طرزِ تعمیر سے متاثر ہوکر تیار کیا جائے گا، جن میں شنگتسک لکڑی کا کام، روایتی پینٹسک پینٹنگ، مٹی کی پلستر کاری، چونے کی سفیدی، دعائیہ چرخے اور خوبصورت دیواری نقش و نگار شامل ہوں گے۔نئے اسمارٹ بس شیلٹرز میں جی پی ایس پر مبنی ریئل ٹائم بس ٹریکنگ سسٹم، 55 انچ پیشنجر انفارمیشن ڈسپلے، وائی فائی، سی سی ٹی وی نگرانی، ایس او ایس ایمرجنسی بٹن اور سولر پاور جیسی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ موبائل و لیپ ٹاپ چارجنگ پوائنٹس، فرسٹ ایڈ کٹس، آکسیجن سلنڈر، فائر سیفٹی سسٹم اور بصارت سے محروم افراد کے لیے خصوصی ٹائلز بھی نصب کی جائیں گی۔

شدید سرد موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے بس شیلٹرز میں گرم نشستیں، حرارت محفوظ رکھنے والی دیواریں اور تیز ہواؤں سے محفوظ انتظار گاہیں تعمیر کی جائیں گی تاکہ سردیوں میں مسافروں کو بہتر سہولت میسر آسکے۔ہر شیلٹر میں 2 کلو واٹ سولر فوٹو وولٹک سسٹم نصب کیا جائے گا، جس سے کاربن اخراج میں کمی اور ماحول دوست توانائی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد لیہہ میں عوامی ٹرانسپورٹ ڈھانچے کو جدید، پائیدار اور عوام دوست بنانا ہے، جبکہ لداخ کی ثقافتی و معماری شناخت کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ شدید سردیوں میں مسافروں کے لیے راحت کا باعث بنے گا اور ماحول دوست شہری ترقی کی ایک مثال قائم کرے ۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande