
چنئی، 4 مئی ( ہ س )۔ تمل ناڈو اسمبلی کے انتخاب کے نتائج تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ ابتدائی رجحانات میں اداکار وجے کی قیادت والی تملگا ویتری کژگم (ٹی وی کے) مسلسل آگے ہے۔ موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ریاست میں بڑے سیاسی بدلاؤ کے اشارے مل رہے ہیں اور ایم جی رام چندرن کے بعد پہلی بار ایک ہی انتخاب میں حکومت بدلنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ووٹوں کی گنتی کے شروع سے ہی ٹی وی کے آگے چل رہی ہے۔ تقریباً پچاس سال سے تمل ناڈو کی سیاست پر راج کرنے والی دراوڑ منیتر کڑگم (ڈی ایم کے) اور آل انڈیا انا دراوڑ منیتر کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) جیسی بڑی پارٹیاں اس بار پیچھے نظر آ رہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اپنے پہلے ہی انتخاب میں ٹی وی کے نے ان پرانی پارٹیوں کو سخت ٹکر دی ہے۔
اب تک کے رجحانات کے مطابق، تملگا ویتری کژگم 109 سیٹوں پر آگے ہے۔ جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت والا قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) 57 سیٹوں پر اور ڈی ایم کے کی قیادت والا اتحاد 49 سیٹوں پر آگے ہے۔ اس کے علاوہ پی ایم کے پانچ اور کانگریس چار سیٹوں پر آگے ہے۔
ان رجحانات کی بنیاد پر 1977 کے بعد تمل ناڈو میں بڑے سیاسی بدلاؤ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ رجحانات نتیجوں میں بدل جاتے ہیں تو وجے کی قیادت میں حکومت بننے کا راستہ صاف ہو سکتا ہے۔ تقریباً 60 سال بعد ایسا ہو سکتا ہے کہ ریاست میں دراوڑ پارٹیوں کے علاوہ کوئی اور پارٹی اقتدار میں آئے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ایم جی رام چندرن نے ایک ہی انتخاب میں حکومت بدل کر تاریخ بنائی تھی۔ اب تقریباً 49 سال بعد 2026 میں وجے ویسا ہی سیاسی بدلاؤ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس انتخاب میں ڈی ایم کے کے کئی سینئر لیڈر اور وزیر بھی پیچھے چل رہے ہیں، جس سے پارٹی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔
ڈی ایم کے، جو مسلسل دوسری بار حکومت میں آنے کی امید کر رہی تھی، فی الحال تیسرے نمبر پر جاتی دکھ رہی ہے۔ جبکہ دوبارہ اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہی اے آئی اے ڈی ایم کے دوسرے نمبر پر ہے۔
دراوڑ پارٹیوں کے متبادل کے طور پر ابھری ٹی وی کے زیادہ تر سیٹوں پر آگے ہے۔ دوسری طرف، نام تملر کچّی تمام سیٹوں پر پیچھے ہے اور اب تک کسی بھی سیٹ پرجیت درج نہیں کرا سکی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عبدالواحد