
۔ وزیر دفاع نے تین روزہ نارتھ ٹیک سمپوزیم کا افتتاح کیا
پریاگ راج، 4 مئی (ہ س)۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے تکنیکی دور میںمستقبل کے لئے تیار رہنے کی خاطر تحقیق ”ریسرچ“اور سرپرائز ایلیمنٹ“انتہائی ضروری ہے ۔ جو ملک جو تکنیکی انقلاب کے ساتھ سب سے زیادہ تیزی سے ڈھل جاتا ہے،وہی مستقبل کی جنگوں میں فیصلہ کن برتری حاصل کرے گا۔
مرکزی وزیر راج ناتھ سنگھ پیر کو یہاں ہندوستانی فوج کی شمالی اور مرکزی کمان اور سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز کے زیر اہتمام تین روزہ نارتھ ٹیک سمپوزیم کا افتتاح کرنے کے بعد اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جدید جنگ تیزی سے بدل رہی ہے۔ روس- یوکرین جنگ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف 3-4 برسوں میں جنگ ٹینکوں اور میزائلوں سے تبدیل ہو کر ڈرون اور سینسرز پر مبنی ہو گئی ہے۔ اب تو روزمرہ کی چیزیں بھی ہتھیاروں میں تبدیل ہو رہی ہیں، جس سے ”سرپرائز فیکٹر“ اور بھی اہم ہو گیا ہے۔
مرکزی وزیر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت نے دفاعی تحقیق کو اولین ترجیح دی ہے اور ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کو مضبوط کیا گیا ہے۔ ڈی آر ڈی او نے اب تک 2,200 سے زیادہ ٹیکنالوجیز کو صنعت میں منتقل کیا ہے۔ دفاعی آر اینڈ ڈی بجٹ کا 25 فیصد صنعت، اسٹارٹ اپس اور اکیڈمی کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ ان شعبوں کے ذریعہ 4,500 کروڑ روپے سے زیادہ کا استعمال کیا جا چکا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت، ٹیکنالوجی کی منتقلی کی فیس کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، اور ڈی آر ڈی او کے پیٹنٹ صنعتوں کو مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے صنعتوں سے اپیل کی کہ وہ اعلیٰ توانائی والے ہتھیاروں، ہائپرسونک ہتھیاروں، کوانٹم ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے ان شعبوں میں آگے بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ 2025-26 میں دفاعی پیداوار 1.54 لاکھ کروڑروپے تک پہنچ گئی اور دفاعی برآمدات 38,424 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس ترقی میں مزید تیزی آئے گی اور اس میں نجی شعبے کا اہم کردار ہے۔ آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور بھارت کی تکنیکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس عرصے کے دوران، آکاش اور برہموس جیسے دیسی ساختہ میزائل سسٹم کو کامیابی کے ساتھ تعینات کیا گیا، جس نے دنیا کے سامنے ہندوستان کی تیاری کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ خود انحصاری اور نئے اقدامات حکومت کی فلیگ شپ اسکیمیںچلائی جا رہی ہیں۔اختراع اور نجی شراکت داری کو فروغ دیا جا رہاہے۔ اتر پردیش میں دفاعی صنعتی راہداری جیسے منصوبے بھی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے ایک نالج کوریڈور بنانے کی تجویز دی، جس سے صنعت، فوج اور تعلیمی اداروں کو نئی ٹیکنالوجیز پر تعاون کرنے کی اجازت دی جائے۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ مستقبل کی جنگوں کا فیصلہ لیبارٹریوں میں کیا جا رہا ہے۔ اس لیے ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط فوجی طاقت بننے کے لیے ٹیکنالوجی، تحقیق اور اختراع کے ذریعے خود کو مسلسل مضبوط کرنا چاہیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، لیفٹیننٹ جنرل اننگھ سین گپتا،جی او سی -ان -سی ، سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم مقامی تکنیکی حل تیار کرنے میں مدد کرے گا۔ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما، جی او سی-ان-سی، شمالی کمان نے کہا کہ یو اے ایس، اے آئی اور درست حملے جیسی صلاحیتیں اب جنگ میں ضروری ہیں۔ سمپوزیم میں ایم ایس ایم ای ، اسٹارٹ اپس اور دفاعی کمپنیوں کی نمائش بھی لگائی گئی ، جن میں 284 کمپنیوں نے اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی اور حل پیش کئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد