
نئی دہلی، 4 مئی (ہ س)۔ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے لئے گنتی کے رجحانات سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس کی قیادت والی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کیرالہ میں فیصلہ کن برتری برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دہلی میں کانگریس کے دفتر میں جشن کا ماحول ہے۔ قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال کی موجودگی میںقائدین اور کارکنوں نے کیک کاٹ کر جیت کا جشن منایا۔
کانگریس ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ عوام نے کانگریس کی قیادت والی یو ڈی ایف پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ یہ لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف ) کی شکست ہے، جس نے 10 برس تک حکومت کی۔ یہ کانگریس، یو ڈی ایف اور راہل گاندھی کی جیت ہے۔ جس طرح کانگریس نے متحد ہو کر کیرالہ میں جدوجہد کی ہے ، اگر یہی پورے ملک میں ہو تو کانگریس کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ ایل ڈی ایف کے دس سالہ دور حکومت میں روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوئے جس کی وجہ سے نوجوان ریاست چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں۔ عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ کانگریس سرمایہ کاری کو واپس لانے اور ریاست کی بہتری کے لیے کام کرے گی۔
کانگریس ایم پی کے سریش نے کہا کہ گنتی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے لیکن کانگریس نے 100 سیٹوں کا ہندسہ عبور کر لیا ہے۔ گنتی کا آخری مرحلہ جاری ہے۔ اس کے بعد اراکین اسمبلی ترواننت پورم میں میٹنگ کریں گے اور اتحادیوں سے بات چیت کریں گے۔آگے کا عمل کانگریس ہائی کمان طے کرے گا۔
کانگریس ایم پی جے بی ماتھیر نے کہا،”ہم نے سینچوری مکمل کر لی ہے۔ یہ عوام کا تحفہ ہے۔ اب ہمیں عوام کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا اور اپنی گارنٹیوں کو لاگو کرنا ہوگا۔ کیرالہ کے لوگوں نے ایل ڈی ایف کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔“
ادھر ہریانہ کے پنچکولہ میں کانگریس لیڈر بھوپیندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ بنگال میں کانگریس کہیں نہیں تھی، آسام میں ہم دوسرے نمبر پر تھے اوروہیں رہیں گے، لیکن کیرالہ میں کانگریس نے کام کیا ہے جس کا فائدہ ملاہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد