
واشنگٹن،30مئی (ہ س)۔امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا، تاہم امریکا ضرورت پڑنے پر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔سنگاپور میں منعقدہ شانگریلا ڈائیلاگ دفاعی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ہیگستھ نے کہا کہ امریکا کے پاس اسلحے اور گولہ بارود کے کافی ذخائر موجود ہیں اور وہ ایران کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔انہوں نے کہا:اگر ضرورت پڑی تو ہم کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہیگستھ کے مطابق امریکا کے اسلحہ ذخائر اس مقصد کے لیے کافی ہیں، چاہے بات ملکی سطح کی ہو یا دنیا کے دیگر خطوں میں موجود ضروریات کی۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا جدید ہائی ٹیک ہتھیاروں اور بڑی تعداد میں تیار کیے جانے والے دیگر گولہ بارود کے درمیان متوازن حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے، جس کے باعث اس کی دفاعی استعداد برقرار ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری چینی فوجی توسیع اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ ایک ''جائز تشویش ''کا باعث ہے۔سنگاپور میں شانگریلا ڈائیلاگ دفاعی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:آج خطے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے چین کی فوجی طاقت میں اضافے اور علاقے کے اندر اور باہر اس کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں پر تشویش کی معقول وجوہات موجود ہیں۔
ہیگستھ نے واضح کیا کہ امریکا خطے میں غیر ضروری محاذ آرائی نہیں چاہتا، بلکہ اس کا مقصد ایشیا میں ایک مستحکم توازن برقرار رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا ایسا طاقت کا توازن چاہتا ہے، جو امریکی مفادات اور اس کے اتحادیوں دونوں کے لیے فائدہ مند ہو، جس میں کوئی بھی ملک، بشمول چین، خطے پر اپنی بالادستی مسلط نہ کر سکے۔ان کے بقول:ہم ایک مثبت اور پائیدار توازنِ قوت کے خواہاں ہیں، جہاں کوئی بھی ریاست، بشمول چین، ایسی برتری حاصل نہ کر سکے ،جو ہماری یا ہمارے اتحادیوں کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خطرہ بنے۔امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے واشنگٹن کے ایشیائی اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ چین کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت کا مقابلہ کرنے اور خطے میں اس کی بالادستی روکنے کے لیے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں۔انہوں نے کہا کہ مضبوط اور خود انحصار اتحادی ہی مو¿ثر دفاع اور روک تھام کی حکمت عملی کی بنیاد ہیں۔
ہیگستھ کے مطابق امریکا اپنے ایشیائی اتحادیوں اور شراکت داروں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ دفاعی بجٹ کو اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 3اعشاریہ5 فیصد تک بڑھائیں، جبکہ امریکا خود اپنی فوج پر 1اعشاریہ5 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم کر چکا ہے۔وزیرِ دفاع نے کہا کہ خطے کے ممالک استحکام چاہتے ہیں اور چین کے ساتھ تعلقات بھی گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں بہتر ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے اور مواصلاتی چینلز کھلے رکھے گئے ہیں۔ان کے بقول ہم اپنے چینی ہم منصبوں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ باقاعدگی سے ملاقات کر رہے ہیں اور دونوں افواج کے درمیان رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ہیگستھ نے مزید کہا:امیر ممالک کے دفاع کے لیے امریکا کی یکطرفہ مالی معاونت کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ہمیں ایسے شراکت دار درکار ہیں جو ذمہ داری اور خطرات میں برابر کے شریک ہوں، نہ کہ ایسے ممالک جو صرف تحفظ حاصل کریں۔اگر سب فریق خطرات میں حصہ نہیں ڈالیں گے، تو مضبوط اتحاد قائم نہیں رہ سکتا اور استحصال کی کوئی گنجائش نہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan