
حیدرآباد ، 3 مئی (ہ س) ۔
تلنگانہ کے ناگرکرنول سے رکن پارلیمنٹ ملوروی نے تجارتی ایل پی جی سلنڈرکی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی سخت مذمت کی ہے۔ پیٹرولیم اور قدرتی گیاس کی وزارت کی مشاورتی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے اپنی جانب سے ایک پریس ریلیزجاری کرتے ہوئے مسٹر روی نے مرکزی حکومت کے اس قدم پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اس اضافے کو گھریلو سلنڈر کے نرخوں میں ہوئے اضافے سے بھی زیادہ تشویشناک قرار دیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کا استدلال ہے کہ تجارتی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صرف اسے خریدنے والوں تک محدود نہیں رہتا ہے بلکہ اس کا براہ راست اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تجارتی گیس مہنگی ہوتی ہے، تو اشیاء اور خدمات کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس سے بالآخر صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ ان کے مطابق، یہ اضافہ براہ راست طور پر مہنگائی کو فروغ دینے والا ہے۔ مسٹر روی نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ تجارتی سلنڈر کے نرخوں میں اضافے کا وسیع اثر ہوٹلوں، ریستورانوں اور چھوٹی دکانوں جیسے کاروباروں پر پڑتا ہے۔ اس سے عام لوگوں پر بالواسطہ مالی بوجھ بڑھتا ہے، جو اسے گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک بناتا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ چھوٹے کاروباروں کے لیے اب اخراجات کو سنبھالنا مشکل ہوتاجارہا ہے۔ گزشتہ یقین دہانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ پیٹرولیم اور قدرتی گیاس کی وزارت کے ایک جوائنٹ سکریٹری نے اشارہ دیا تھا کہ قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت اپنے وعدے سے مکرگئی ہے اورعوام کے بھروسے کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ حکومت کے قول و فعل میں یہ فرق عوامی مفادات کے خلاف ہے۔ روی نے عوامی مفاد کو سب سے بالا رکھتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تجارتی ایل پی جی سلنڈرکی بڑھی ہوئی قیمتوں کوفوری طورپر واپس لیا جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا، تویہ کاروباروں اورصارفین دونوں پراضافی مالی بوجھ ڈالے گا، جس سے معیشت کی نچلی سطح پربحران گہرا ہوسکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق