
ہزاری باغ، 3 مئی (ہ س)۔ ہزاری باغ ضلع کے برہی میں واقع بینک آف مہاراشٹرا کی شاخ میں 24 اپریل کو ہوئی کروڑوں روپے کی لوٹ کے سلسلے میں جھارکھنڈ پولیس نے اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے مشتبہ افراد سے مسروقہ سونا اور نقدی بھی برآمد کی ہے۔
ہزاری باغ پولیس کے سپرنٹنڈنٹ امن کمار نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار ملزمان میں بین ریاستی بینکلٹیرا گینگ کا سرغنہ بھی شامل ہے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت محمد افضل، پنکج سنگھ عرف رونق سنگھ اور سوربھ یادو عرف سونو کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق، یہ تمام ملزمان طویل عرصے سے مختلف ریاستوں میں بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں سرگرم تھے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ملزمان وارانسی، اتر پردیش میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد جھارکھنڈ پولیس نے یوپی اسپیشل ٹاسک فورس کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی تیار کی اور چھاپہ مار کر تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
کارروائی کے دوران، پولیس نے ملزم سے تقریباً ایک کلو سونا، 20 لاکھ روپے نقد، ایک کار اور کئی موبائل فون ضبط کر لیے۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ برآمد شدہ کار بینک لوٹ اور بعد ازاں فرار میں استعمال کی گئی تھی۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ لوٹ کے بعد سے جھارکھنڈ پولیس اتر پردیش اور مغربی بنگال میں چھاپے مار رہی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) سے مدد طلب کی گئی۔ پولیس اب گرفتار ملزمان سے گینگ کے دیگر ارکان کی شناخت کے لیے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران کئی اہم سراغ ملے ہیں جن کی بنیاد پر گینگ کے دیگر ارکان کی تلاش جاری ہے۔ وہ جھارکھنڈ سمیت دیگر ریاستوں میں گینگ کے ذریعہ کئے گئے دیگر جرائم کی بھی تفتیش کر رہے ہیں۔ پولیس نے اشارہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے میں مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد