
حیدرآباد ، 3 مئی (ہ س) ۔ کاماریڈی کے اندراچوک علاقہ میں پیش آئے بھیانک آتشزد گی کے واقعہ میں تقریباً 21 دکانوں کے علاوہ چند چھوٹے ہوٹل مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق روزانہ کی طرح تاجر رات میں اپنی دکانیں بند کرکے گھروں کو روانہ ہوگئے تھے کہ اچانک آدھی رات کے وقت آگ بھڑک اٹھی۔ شدید گرمی اور تیز ہوائوں کے باعث آگ نے تیزی سے ایک دکان سے دوسری دکان تک پھیلتے ہوئے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ اطلاع ملتے ہی فائربریگیڈ عملہ موقع پر پہنچ کر آگ پرقابو پایا تاہم اس وقت تک تمام دکانیں مکمل طور پرجل چکی تھیں۔آگ لگنے کی وجہ کا علم نہیں ہوسکا ۔ بتایا جاتا ہے کہ شادیوں کے سیزن کے پیش نظر دکانداروں نے جو اسٹاک ذخیرہ کررکھا تھا وہ بھی مکمل طورپر نذر آتش ہوگیا جس پر متاثرہ تاجرشدید رنج وغم کا اظہار کررہے ہیں۔ آگ کی شدت کے باعث ہوٹلوں میں موجود گیس سلنڈر بھی پھٹ گئے، جبکہ دکانوں میں رکھی نقد رقم بھی جل کرخاکسترہوگئی۔ اس واقعہ کے نتیجہ میں تاجروں کوتقریباً 50 تا 60 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔واقعہ کی اطلاع ملنے پرمیونسپل چیئرپرسن اوما رانی ،محمد الیاس یوتھ کانگریس قائد ، کے سرینواس نے مقام حادثہ کا دورہ کرتے ہوئے متاثرین سے ملاقات کی اور انہیں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کے کنارے موجود پھلوں، پھولوں اور ہوٹلوں کی دکانوں کا اس طرح جل جانا انتہائی افسوسناک ہے اوران محنت کش تاجروں کی برسوں کی کمائی کا یوں خاکسترہوجانا دل دہلا دینے والا منظر ہے۔ اوما رانی نے متاثرہ تاجروں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مایوس نہ ہوں کیونکہ کسی جانی نقصان کا نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ تاجر دوبارہ اپنے کاروبار کو سنبھال لیں گے۔انہوں نے مقامی عوام اور رضاکارانہ تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کے ناطے آگے آئیں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کریں تاکہ ان کی زندگیوں میں دوبارہ روشنی آسکے۔ مزید کہا کہ حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے مناسب معاوضہ فراہم کیا جائےگا اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچائو کے لیے دکانوں میں بجلی نظام کی درست دیکھ بھال اوراحتیاطی تدابیراختیارکرنا ضروری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق