
کولکاتہ، 22 مئی (ہ س)۔
مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو تسلیم کرنے کا تنازعہ اس وقت مزید گہرا ہوگیا ،جب حزب اختلاف کی جانب سے دیا گیا مقررہ وقت گزر جانے کے بعد بھی قائد حزب اختلاف کا کمرہ نہیں کھلا ۔اس کے بعد ترنمول کانگریس کے ممبران اسمبلی نے جمعہ کو اسمبلی احاطے میں احتجاجی دھرنا شروع کردیا ۔ ترنمول کانگریس کے اٹھارہ ایم ایل اے اسمبلی کے اندر اپوزیشن لیڈر کے بند کمرے کے سامنے لابی میں احتجاجی دھرنا پر بیٹھ گئے۔
ترنمول کانگریس نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر شوبھندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا اور ان کا کمرہ نہیں کھولا گیا تو پارٹی احتجاج کرے گی۔ اس کے لیے دوپہر 12 بجے تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ جیسے ہی ڈیڈ لائن گزر گئی، ترنمول ایم ایل اے نے احتجاجی دھرنا شروع کردیا۔
دراصل، اسمبلی اسپیکر رتھندرا ناتھ باسو نے شوبھندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن کا لیڈر قرار دینے کے لیے رسمی قرارداد لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ابتدائی غیر یقینی صورتحال کے بعد، ترنمول کانگریس نے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ کے بعد اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔ اس کے باوجود اپوزیشن لیڈر کو تسلیم کرنے کو لے کر اسمبلی احاطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
کچھ دن پہلے ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اسمبلی اسپیکر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ شوبھندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن کا لیڈر قرار دیا جائے۔ تاہم اسمبلی سیکرٹریٹ نے خط کو مسترد کر دیا۔ سیکرٹریٹ نے کہا کہ قواعد کے مطابق پارلیمانی پارٹی کو باضابطہ خط اور اجلاس کی قرارداد پیش کرنا ہوگی۔ انفرادی لیڈر کا اعلان قابل قبول نہیں ہوگا۔
اس کے بعد ترنمول لیجسلیٹو پارٹی کی میٹنگ میں شوبھندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن کا لیڈر منتخب کیا گیا۔ اس کے باوجود شوبھندیب چٹوپادھیائے نے الزام لگایا کہ انہیں ابھی تک باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے اور اسمبلی میں ان کے لیے مختص کردہ کمرہ بند رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر رتھندرا ناتھ باسو ترنمول کے 80 ایم ایل اے کے دستخط شدہ قرارداد کا مطالبہ کر رہے ہیں، حالانکہ ایسا کوئی اصول نہیں ہے۔
اسمبلی نے وضاحت کی ہے کہ شوبھندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کے عمل میں ضروری اصولوں کی پیروی نہیں کی گئی۔ اسمبلی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ترنمول کانگریس نے قرارداد کی کاپی پیش نہیں کی اور یہ واضح نہیں کیا کہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر ان کے انتخاب کی کتنے ایم ایل اے نے حمایت کی۔ ترنمول کانگریس نے واضح کیا ہے کہ اگر اسمبلی انتظامیہ اپنے سابقہ موقف کو برقرار رکھتی ہے اور قائد حزب اختلاف کا کمرہ نہیں کھولتی ہے تو ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی