وزیر اعظم کو جھالموڑی کھلانے والے دکاندار کو بیرون ملک سے مل رہی ہیں دھمکیاں، اہل خانہ میں خوف و ہراس
کولکاتہ، 22 مئی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو جھالموڑی کھلانے کے بعد مغربی بنگال کے جھارگرام میں مشہور ہونے والے دکاندار وکرم ساو کو اب بیرون ملک سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ وکرم ساو کا دعویٰ ہے کہ انہیں گزشتہ چند دنوں سے پاکستان اور ب
جھال


کولکاتہ، 22 مئی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو جھالموڑی کھلانے کے بعد مغربی بنگال کے جھارگرام میں مشہور ہونے والے دکاندار وکرم ساو کو اب بیرون ملک سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ وکرم ساو کا دعویٰ ہے کہ انہیں گزشتہ چند دنوں سے پاکستان اور بنگلہ دیش سے فون اور ویڈیو کالز کے ذریعے دھمکیاں مل رہی ہیں، جس سے ان کا پورا خاندان خوفزدہ ہے۔

درحقیقت حال ہی میں ختم ہوئی اسمبلی انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے جھارگرام کا دورہ کیا تھا۔ وہ مقامی دکاندار وکرم ساوکی دکان پر رکے اور مشہور بنگالی ڈش جھالموڑی کا ذائقہ چکھا۔ وزیر اعظم اور وکرم ساو کی بات چیت اور تصاویر سوشل میڈیا سے لے کر قومی میڈیا تک موضوع بحث بن گئیں۔ اس کے بعد وکرم ساواچانک سرخیوں میں آ گئے۔

اب یہ شناخت ان کے لیے پریشانی کا باعث بنتی نظر آرہی ہے۔ وکرم ساو نے کہا کہ وزیر اعظم کے ان کی دکان پر جانے کے فوراً بعد انہیں دھمکی آمیز فون کالز اور ویڈیو کالز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کال کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان اور بنگلہ دیش سے ہیں۔

وکرم ساو کے مطابق، فون کرنے والے اسے ویڈیو کالز پر ہتھیار دکھا کر اور بم دھماکے جیسی دھمکیاں دے کر ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا، مجھے پاکستان سے مسلسل ویڈیو اور فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔ کال کرنے والے مجھے جان سے مارنے اور بموں سے اڑا دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

وکرم ساو نے بتایا کہ اس نے کئی بار کالز سے بچنے کی کوشش کی لیکن مختلف نمبروں سے کالیں آتی رہیں۔ وکرم ساو نے الزام لگایا کہ کال کرنے والوں نے گالی گلوچ بھی کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

وکرم ساو نے یہ بھی کہا کہ انہیں بنگلہ دیش سے دھمکی آمیز کالیں موصول ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق فون کرنے والے پوچھتے ہیں کہ تم زندہ ہو یا مر گئے؟ واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے گئے ہیں جس میں اسے بم دھماکے میں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

اگرچہ وکرم ساو کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے انہیں دھمکیاں دی ہیں انہوں نے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے تعلق کا ذکر نہیں کیا، لیکن اس طرح کی کالیں وزیر اعظم کے ان کی دکان پر جانے کے بعد ہی آنے لگیں۔

انہوں نے کہا کہ فون کرنے والے پہلے مذہبی سلام پیش کرتے ہیں اور پھر انہیں دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ مسلسل دھمکیوں نے اس کے خاندان کو ذہنی دباو اور خوف کی حالت میں چھوڑ دیا ہے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے وکرم ساو کو سکیورٹی بھی فراہم کر دی ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے ان کی دکان اور آس پاس کے علاقے میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

وکرم ساونے مرکزی حکومت اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی اور ان کے خاندان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ پولیس اب کال کے ذریعہ مزید دھمکیوں کی شناخت کے لیے کام کر رہی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande