



عالمی یومِ حیاتیاتی تنوع پر آئی آئی ایف ایم میں ریاستی سطح کا پروگرام اور ورکشاپ
بھوپال، 22 مئی (ہ س)۔
مرکزی وزیرِ برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو نے کہا ہے کہ ہندوستان کی قدیم ندی تہذیبوں میں نرمدا کا خاص مقام ہے۔ ریاست میں امرکنٹک اور پاتال کوٹ دھرتی پر ایشور (خدا) کا دیا ہوا سب سے بڑا تحفہ ہیں۔ حیاتیاتی تنوع ہماری ہندوستانی تہذیب کی اصل روح ہے، انہیں برقرار رکھنا ہی ہمارا عزم اور ہمارا ہدف ہے۔ عالمی یومِ حیاتیاتی تنوع پر ہم سب عہد کریں کہ جسے ہم بنا نہیں سکتے، کم از کم اسے بگاڑیں تو نہیں۔
مرکزی وزیر یادو جمعہ کے روز بھوپال میں عالمی یومِ حیاتیاتی تنوع کے موقع پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فاریسٹ مینجمنٹ (آئی آئی ایف ایم) میں منعقدہ ریاستی سطح کے پروگرام اور چیتا تحفظ پر میڈیا ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دھرتی پر دستیاب حیاتیاتی تنوع سے ہمیں غذا، دوا اور زندگی ملتی ہے۔ دنیا میں ہم زمین کا 2.4 فیصد رقبہ رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں 36 ہزار خوشحال نباتات ہیں، لیکن یہ عالمی سطح پر صرف 8 فیصد کے آس پاس ہے۔ ’’پروجیکٹ چیتا‘‘ میں ہم نے ایک جنگلی جاندار کی نسل کا تحفظ کیا ہے۔ چیتا گھاس کے میدانوں (گراس لینڈز) میں رہنے والا جاندار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے 58 ٹائیگر ریزرو سے تقریباً 600 آبی دھارے نکلتے ہیں اور ندیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ اس طرح سے ٹائیگر ریزرو ہماری ندیوں کا بھی تحفظ کرتے ہیں۔ ہماری حکومت تمام جنگلی جانداروں کے تحفظ پر توجہ دے رہی ہے، کیونکہ پیچیدہ ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) میں جانداروں اور قدرت کا بیحد انمول رشتہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیاتیاتی تنوع ہماری معیشت کو رفتار دیتی ہے۔ آج کل گرین ہاوس گیسوں اور کاربن کا اخراج بڑھ رہا ہے۔ حیاتیاتی تنوع کاربن کو جذب کرنے کا کام بھی کرتی ہے۔ دھرتی پر 30 فیصد رقبہ جنگلات سے گھرا ہوا ہے۔ ہندوستان میں 23 فیصد زمین پر جنگلات ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اپنے ہدف کا 90 فیصد حاصل کر لیا ہے۔ سال 2030 تک ہم اس ہدف کو 100 فیصد پورا کر لیں گے۔ ہمارے مہاجر پرندوں کے آنے کے راستے برسوں سے ایک جیسے رہے ہیں۔ پروجیکٹ چیتا کے ذریعے ہم ماحولیاتی تحفظ کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں سے لے کر جنوب کے جنگلات تک، سندر بن سے راجستھان کے تھار تک ہماری حیاتیاتی تنوع ہندوستانی تہذیب کی روح ہے۔ ہمارے جنگل ہندوستان کا ثقافتی شعور ہیں۔ صدیوں سے ہندوستان نے قدرت کے ساتھ زندگی گزارنے کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ مدھیہ پردیش کے قبائل کے طرزِ زندگی میں یہ خوشحال روایت صاف نظر آتی ہے۔ ہمیں قدرتی کھیتی اور قدرت کو بچائے رکھنے میں تعاون کرنا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو اور مرکزی وزیرِ جنگلات یادو نے اے بی ایس اینڈ ٹو اینڈ ویب پورٹل کا افتتاح کیا۔ یہ پورٹل حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی توازن اور جنگلی جانداروں کے تحفظ کے تئیں حساسیت اور عوامی بیداری بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر چیتا تحفظ پر مبنی بروشر، ’انڈیاز بایوڈائیورسٹی رپورٹ 2026‘ اور دیگر تشہیری لٹریچر کا اجراء کیا گیا اور عالمی یومِ حیاتیاتی تنوع کی یادگار کے طور پر محکمۂ ڈاک کا ’مائی اسٹیمپ‘ (5 روپے کا ڈاک ٹکٹ) بھی لانچ کیا گیا۔
مہمانوں نے آئی آئی ایف ایم میں نو قائم شدہ ڈیٹا پر مبنی لیبارٹری (ڈیٹا ڈریون لیب) کا افتتاح بھی کیا۔ ساتھ ہی انٹرنیشنل بگ کیٹس الائنس (آئی بی سی اے) کی کامیابیوں پر مبنی مختصر فلم، ریاست کے حیاتیاتی تنوع کے وراثتی مقامات پر مرکوز مختصر فلم اور مدھیہ پردیش ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈ کے ذریعے تحفظ یافتہ تپوون بھومی کے مقامات پر مبنی مختصر فلم دکھائی گئی۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو اور مرکزی وزیرِ جنگلات یادو نے ریاست کے محکمۂ جنگلات کے فیلڈ اسٹاف کے لیے نئی بائیکس اور ریسکیو گاڑیوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
مرکزی وزیر نے مدھیہ پردیش میں چیتا تحفظ کے لیے کیے جا رہے قابلِ ستائش کام پر وزیرِ اعلیٰ اور ریاستی حکومت کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں حیاتیاتی تنوع کے شعبے میں نمایاں کام ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا نعرہ ہے - ایکٹ لوکلی، تھنک گلوبلی۔ سال 2014 تک ملک میں صرف 24 رامسر سائٹس ہوا کرتی تھیں، جو آج بڑھ کر 99 ہو چکی ہیں اور بہت جلد ان کی تعداد 100 ہو جائے گی۔ ہندوستان کی رامسر سائٹس قدرت کے تئیں ہمارے مضبوط عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے اندور کو ویٹ لینڈ سٹی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخت لگانا، پلاسٹک کا کم استعمال، پانی بچانا اور مقامی حیاتیاتی تنوع کے تئیں حساس ہونا جیسی چھوٹی چھوٹی کوششیں بڑی تبدیلی کی بنیاد بنیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کی خوشحالی سے ہی انسانیت خوشحال ہوگی۔
مرکزی وزیرِ مملکت برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ عالمی یومِ حیاتیاتی تنوع پر دنیا کے ممالک موسمیاتی تبدیلی پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے آنے والی نسلوں کے ماحول کو بچایا جا سکتا ہے۔ ہمارے شاستروں میں کہا گیا ہے کہ 10 تالابوں کے برابر ایک بیٹا ہے اور 10 بیٹوں کے برابر ایک درخت ہے۔ ہمارا ملک حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں دنیا کی قیادت کرتا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ حیاتیاتی تنوع میں ہماری ریاست کو ملک میں ایک بہترین مثال کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ ہمارے پاس ’ٹائیگر اسٹیٹ‘، ’لیپرڈ اسٹیٹ‘، ’چیتا اسٹیٹ‘، ’ولچر اسٹیٹ‘، ’گھڑیال اسٹیٹ‘ اور ’وولف اسٹیٹ‘ کا خطاب ہے۔ برسوں پہلے ملک کی دھرتی سے چیتے ناپید ہو چکے تھے۔ ہم ملک کے قدرتی اور ثقافتی ورثے کے طور پر پہچانے جانے والے چیتوں کو ریاست کی دھرتی پر واپس لے آئے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے عالمی یومِ حیاتیاتی تنوع 2026 مدھیہ پردیش میں منانے کے لیے مرکزی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
کونو نیشنل پارک کے ڈائریکٹر اتم کمار شرما نے کہا کہ چیتے ہندوستان میں برسوں سے موجود تھے۔ یہ تقریباً 4 سے 5 ہزار سال سے ہندوستانی ثقافتی ورثے کا حصہ رہے ہیں۔ بھوپال کے قریب کھروئی میں ملنے والی ہزاروں سال پرانی چٹانی تصویروں (شیل چتروں) میں چیتوں کی شکلیں نظر آتی ہیں۔ سال 1952 میں ہندوستانی چیتا ہمارے یہاں سے ختم ہو گیا تھا۔ سال 2009 کے بعد چیتوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے کوششیں شروع کی گئیں۔ 2021 میں ’پروجیکٹ چیتا‘ ایکشن پلان بنایا گیا۔ ہندوستان میں چیتوں کی بڑی تعداد ہو، اس کے لیے ملک بھر میں 10 سازگار مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ شیوپور کے کونو میں پہلی بار 2022 میں نمیبیا سے چیتے لائے گئے تھے۔ اس کے بعد 2023 اور 2026 میں بھی چیتے مدھیہ پردیش کی دھرتی پر آئے ہیں۔ پہلے انہیں سافٹ ریلیز بوما میں قرنطینہ (کوارنٹین) میں رکھا جاتا ہے۔ ہندوستان میں اس سال 18 نئے چیتوں کی پیدائش ہوئی۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والی پہلی مادہ چیتا ’مکھی‘ بھی شاوکوں (بچوں) کو جنم دے چکی ہے۔ چیتوں کی کل تعداد 53 ہے، جن میں سے 33 ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے چیتا مِتروں کو اس پروجیکٹ سے جوڑا ہے، جو سیاحوں کے لیے چیتا ایمبیسیڈر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔
انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس (آئی بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایس پی یادو نے کہا کہ انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس وزیراعظم مودی کا وژن ہے، جس میں دنیا میں پائے جانے والے بگ کیٹس کے تحفظ کی پہل قدمی کی گئی ہے۔ وزیراعظم مودی نے کہا تھا کہ بگ کیٹس کو غیر قانونی شکار سے بچانے کے لیے تمام ممالک کو ایک ساتھ آنا چاہیے۔ ہندوستان میں بگ کیٹس پروجیکٹ 9 اپریل 2023 کو شروع کیا گیا تھا۔ کابینہ سے منظوری ملنے پر 12 مئی 2024 کو باقاعدہ بگ کیٹس الائنس کا قیام عمل میں آیا۔ اس میں 95 ممالک کے 7 بگ کیٹس کے تحفظ کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ اب تک 25 ممالک اس الائنس کے ممبر بن چکے ہیں، جن کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بگ کیٹس الائنس کے تحت محفوظ 7 نسلوں میں سے 5 ہندوستان میں رہتی ہیں۔ ہندوستان میں ٹائیگرز کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ لیپرڈ کی تعداد میں بھی ہندوستان نمبر 1 ہے۔ اسنو لیپرڈ میں تیسرے مقام پر ہے۔ ایشیاٹک لائن صرف ہندوستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔ چیتا پروجیکٹ کو کامیابی کے ساتھ ہندوستان میں نافذ کیا گیا ہے۔ دنیا میں چیتوں کی صورتحال اچھی نہیں ہے، لیکن ہندوستان آج چیتا تحفظ میں دنیا کا صفِ اول کا ملک ہے۔ مدھیہ پردیش کے کونو نیشنل پارک میں چیتوں کے تحفظ کا کام پوری دنیا کے لیے موضوعِ بحث ہے۔
پروگرام میں وزیرِ مملکت برائے جنگلات و ماحولیات دلیپ اہیروار، مرکزی سکریٹری برائے وزارتِ ماحولیات و جنگلات تنمے کمار، ڈی جی فاریسٹ مرکزی وزارتِ ماحولیات و جنگلات سشیل اوستھی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فاریسٹ مینجمنٹ کے ڈائریکٹر کے روی چندرن اور چیف کنزرویٹر آف فاریسٹس سمیت بڑی تعداد میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فاریسٹ مینجمنٹ کے طلباء موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن