ایران کے خلاف کارروائیوں کےلئے کافی گولہ بارود موجود ہے : امریکی عہدے دار
واشنگٹن،22مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کے امکان کے اشارے کے جلو میں، قائم مقام امریکی وزیر بحریہ ہونگ کاو نے واضح کیا ہے کہ پینٹاگان نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ جنگ د
ایران کے خلاف کارروائیوں کےلئے کافی گولہ بارود موجود ہے : امریکی عہدے دار


واشنگٹن،22مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کے امکان کے اشارے کے جلو میں، قائم مقام امریکی وزیر بحریہ ہونگ کاو نے واضح کیا ہے کہ پینٹاگان نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ان کے ملک کے پاس اپنی کارروائیوں کے لیے کافی گولہ بارود موجود ہو۔انھوں نے اشارہ کیا کہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت معطل کر دی گئی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی فوج کے پاس ایران میں اپنی کارروائیوں کے لیے کافی گولہ بارود موجود ہو۔

گذشتہ روز جمعرات کو کانگریس کے ایک اجلاس میں تائیوان کی جانب سے 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی خریداری کے معطل سودے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کاو نے کہا کہ اسے اس لیے معطل کیا گیا ہے تاکہ ’یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے پاس وہ گولہ بارود موجود ہو جس کی ہمیں اپریشن’ایپک فیوری‘ کے لیے ضرورت ہے، اور ہمارے پاس اس کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔امریکی وزیر نے مزید کہا کہ ’لیکن ہم صرف یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس ہر چیز موجود ہو اور جب انتظامیہ اسے ضروری سمجھے گی تو ہتھیاروں کی فروخت دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔یہ وضاحت امریکی صدر کی جانب سے فروخت کے عمل کو مکمل کرنے کی یقین دہانی کرانے سے انکار کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے تائیوان کی حمایت کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ چین اسے اپنا حصہ سمجھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے زور پر بھی اپنے ساتھ ملانے کا عزم ظاہر کر چکا ہے۔چین کے اپنے گذشتہ سرکاری دورے سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ہتھیاروں کے اس سودے کے بارے میں صدر شی جن پنگ سے بات کریں گے، جو کہ امریکہ کے اس سابقہ اصرار سے انحراف تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس معاملے میں بیجنگ سے کوئی مشاورت نہیں کرے گا۔لیکن امریکی صدر نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے تائیوان کے بارے میں شی جن پنگ سے کوئی وعدہ نہیں کیا ہے اور وہ قلیل مدت کے اندر ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے گذشتہ روز شام کو اس بات پر زور دیا تھا کہ ایرانی فریق کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک کسی بھی ممکنہ معاہدے میں تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ٹرمپ نے لکیر کھینچی کہ یہ تنازع بہت جلد ختم ہو جائے گا اور اشارہ کیا کہ امریکہ جو چاہتا ہے وہ کسی نہ کسی طرح حاصل کر لے گا۔دوسری طرف پاکستان جو کئی مہینوں سے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان نقطہ نظر کو قریب لانے اور خلیج کو کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande