
بیروت،22مئی(ہ س)۔امریکہ نے 9 ایسے افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو حزب اللہ کے لیے لبنان کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کا عمل آسان بنا رہے ہیں۔امریکی وزارتِ خزانہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ حزب اللہ کی حمایت کر کے یہ افراد لبنان میں ایرانی حکومت کے بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور لبنانی عوام کے لیے امن اور بحالی کے راستے میں فعال طور پر رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
پیگوٹ نے مزید کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل حمایت اور ہتھیار ڈالنے سے انکار لبنانی حکومت کو وہ امن، استحکام اور خوشحالی فراہم کرنے سے روکتا ہے جس کے اس کے عوام حقدار ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ پابندیاں ان افراد کو نشانہ بناتی ہیں جو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں جن میں پارلیمنٹ کے ارکان، ایک ایرانی سفارت کار جو لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور لبنانی سکیورٹی حکام شامل ہیں جنہوں نے ایک دہشت گرد تنظیم کے فائدے کے لیے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ لبنانی عوام اور اس کے جائز سرکاری اداروں کی حمایت کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر امریکی محکمہ خارجہ کا انعام برائے انصاف پروگرام ایسے شخص کو 10 ملین امریکی ڈالر تک کا انعام پیش کر رہا ہے جو ایسی معلومات فراہم کرے جو حزب اللہ کے فنڈنگ کے طریقہ کار کو ناکام بنانے کا سبب بنے۔پیگوٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ جو کوئی بھی اب تک اس دہشت گرد تنظیم کو پناہ دے رہا، اس کے ساتھ تعاون کر رہا یا کسی بھی شکل میں لبنان کی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہا ہے، اسے یہ جان لینا چاہیے کہ اس کا احتساب کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک مستحکم، محفوظ اور آزاد لبنان کے لیے حزب اللہ کا مکمل طور پر غیر مسلح ہونا اور ملک بھر کے سکیورٹی امور پر لبنانی حکومت کی خصوصی اتھارٹی کی بحالی ضروری ہے۔ انہوں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ لبنانی عوام اور حکومت کی ایک بہتر، زیادہ پرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف راستہ بنانے میں مدد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
امریکی پابندیوں کی نئی فہرست میں شامل افراد میں ابراہیم الموسوی (حزب اللہ کی طرف سے لبنانی پارلیمنٹ کے رکن)، حسن فضل اللہ (حزب اللہ کی طرف سے لبنانی پارلیمنٹ کے رکن)، حسین الحاج حسن (حزب اللہ کی طرف سے لبنانی پارلیمنٹ کے رکن اور سابق وزیر)، محمد عبد المطلب فنیش (سابق لبنانی وزیر اور حزب اللہ کے رہنما)، احمد اسعد بعلبکی (حزب اللہ سے وابستہ شخصیت)، سامر عدنان حمادی (حزب اللہ سے وابستہ)، خضر ناصر الدین (لبنانی تاجر جن پر حزب اللہ کے نیٹ ورکس کی حمایت کا الزام ہے)، علی احمد صفاوی (حزب اللہ سے وابستہ)، محمد رضا رو¿ف شیبانی (سابق ایرانی سفارت کار جن پر لبنان میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کی حمایت کا الزام ہے) کے نام شامل ہیں۔
یاد رہے واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد امریکہ نے جمعہ کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اگلے 2 اور 3 جون کو مذاکرات کے ایک نئے دور کا انعقاد کرے گی جس کا مقصد ایک طویل مدتی سیاسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔ اس سے قبل پینٹاگون 29 مئی کو لبنان اور اسرائیل کے فوجی وفود کے ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا۔دوسری طرف حزب اللہ براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرتی ہے جو لبنان اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں میں پہلے مذاکرات ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ یہ مذاکرات خاص طور پر اس کے ہتھیار ڈالنے کے معاملے پر مرکوز ہیں جس سے حزب اللہ انکار کرتی ہے۔
واضح رہے 17 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد اس میں مزید 45 دنوں کی توسیع پیر کے روز نافذ العمل ہوئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود اسرائیل ایسے حملے جاری رکھے ہوئے ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ اور اس کے ارکان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیل ان سرحدی علاقوں میں مسماری اور تباہی کی کارروائیاں کر رہا ہے جہاں اس کی افواج قابض ہیں۔صہیونی فوج روزانہ کی بنیاد پر دیہاتوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کرتی ہے جن کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو کر اکثر سرحد سے دور دراز علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں دیگر علاقوں سے آئے ہوئے رہائشی اور بے گھر افراد مقیم ہیں۔ حزب اللہ جنوبی لبنان اور اسرائیل کے اندر اسرائیلی فوج کے خلاف حملوں کا اعلان جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan