
امریکہ نے تائیوان کو اسلحوں کی فروخت روکی
واشنگٹن، 22 مئی (ہ س)۔ امریکی بحریہ کے قائم مقام سکریٹری ہنگ کاو نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث تائیوان کو اسلحوں کی فروخت روک دی ہے۔ انہوں نے یہ معلومات ٹاپ ریپبلکن رہنما مچ میک کونل کے ایک سوال کے جواب میں دی۔ سینیٹ کی سماعت کے دوران، سینیٹر میک کونل نے کاو سے کہا، ’’ہم نے تائیوان کو امریکہ سے ہتھیار خریدنے کی ترغیب دی ہے۔ مگر اچانک فروخت روک دی گئی ہے۔ اس روک کے بارے میں آپ کو تائیوان کی طرف سے کیا معلومات مل رہی ہیں؟‘‘
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کاو نے جواب دیا، ’’میں نے تائیوان کے حکام سے بات نہیں کی ہے۔ تاہم، ہم نے انہیں ہتھیاروں کی فروخت کی ہے۔ ابھی ہم نے فروخت اس لیے روکی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے پاس ’ایپک فیوری‘ کے لیے ضروری گولا بارود موجود ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس کافی مقدار میں گولا بارود ہے۔
کاو نے کہا، ’’جب ٹرمپ انتظامیہ کو ضروری لگے گا تب ہتھیاروں کی فروخت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فروخت کب دوبارہ شروع ہوگی، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار سکریٹری دفاع اور سکریٹری خارجہ کے پاس ہوگا۔ میک کونل نے اس پر کہا کہ یہی بات سب سے زیادہ پریشان کرنے والی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن