
واشنگٹن،22مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک کسی بھی ممکنہ معاہدے میں تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔امریکی صدر نے وائٹ ہاو¿س سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع بہت جلد ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا امریکہ جو چاہتا ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے حاصل کر کے رہے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ تہران پر شدید دباو¿ ڈالنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی بحریہ تہران کی سختی سے ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ واشنگٹن ایک فولادی محاصرے کے ذریعے آبنائے ہرمز پر پہلے ہی کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر رہے۔ امریکہ ایرانی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حاصل کرتے ہی اسے تباہ کرنے پر کام کرے گا۔
سمندری جہاز رانی کے معاملے پر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارتی آمد و رفت کے لیے بغیر کسی ٹیکس یا پابندی کے کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ بیانات ایران کے جوہری معاملے سے متعلق جاری سفارتی کوششوں کے درمیان سامنے آئے ہیں جہاں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج اس سے پہلے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستانی ثالثی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر منتج ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پاکستانی آج تہران کا رخ کریں گے۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ یہ چیز اس معاملے کو مزید آگے بڑھائے گی۔واضح رہے تہران پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کے دورے کا منتظر ہے۔ یہ دورہ اسلام آباد کی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ تہران 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امریکی تجویز پر غور کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan